Contact Numbers: 9818050974(Dr. Raza Haider), 9911091757 (Dr. Idris Ahmad), 9891535035 (Abdul Taufique) -- ghalibinstitute@gmail.com

Monday, August 31, 2015

ڈاکٹر نجمہ رحمانی کی کتاب پر مذاکرہ

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام شام شہریاراں کے موقع پر ڈاکٹر نجمہ رحمانی (شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی) 
کی کتاب ’’اردوافسانہ کا سفر‘‘ پرایک پروقار مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔اس مذاکرہ کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی۔ مذاکرہ کے ابتدا میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ کتاب طلباء،اساتذہ اور اہل علم کے لیے ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب میں ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے نئے اردو افسانے کے تعلق سے ممتازادیبوں اور دانشوروں کے مضامین کو جمع کرکے موضوع کے ہر پہلو علمی مباحث قائم کیے ہیں۔پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ محفل’ شامِ شہرِ یاراں‘کے موقع پر اس علمی کتاب پر خاطر خواہ بحث ہوئی ۔ادب کی دنیا میں ترمیم و اضافے ہوتے رہتے ہیں اس لئے عدم تکمیل کا احساس تو رہے گا لیکن ان کی اس کوشش پر مجھے ذاتی خوشی ہوئی ۔ڈاکٹرابوبکرعباد نے کہا ہے کہ ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے اس کتاب سے افسانے کی تاریخ بھی مرتب کی ہے،افسانے کے فن پربھی بحث کی ہے اور افسانے کے حوالے سے نظریاتی مبحث بھی پیش کی ہے۔ڈاکٹر خالد جاوید نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرصے سے ایسی کتاب کا انتظار تھا جو افسانے کی تشریح وتفہیم کا حق ادا کر سکے ،ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے اس کمی کو پور اکیا۔جناب خورشید اکرم نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ افسانہ پڑھی جانے والی صنف ہے،اب قاری ہی مفقود ہوتے جارہے ہیں پھر بھی ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے اس نوعیت کی کتاب ترتیب دے کر قاری کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ افسانے اور غیر افسانے میں تفریق کو سمجھا جائے۔ ڈاکٹر خالد علوی نے اس کتاب کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے منتخب معیاری افسانوں کو بھی انتخاب میں جگہ دی ہے ،انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر جو ہورہا ہے اُسے اخباروں میں پڑھتے ہیں لیکن گھروں کے اندر جو ہوتا ہے اسے کتابوں و افسانوں میں ہم محسوس کرتے ہیں ۔پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے ڈاکٹر نجمہ رحمانی کو ان کی اس کتاب کے لئے مبارک باد دیا۔بالخصوص کتاب کے مقدمہ کے لئے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ میں انہوں نے ایسے مباحث قائم کئے ہیں کہ جوکتاب کا حق ادا کرتے ہیں۔پروفیسر شمس الحق عثمانی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آخر کیا وجہ کہ غزل اور افسانے ایک ہی دورمیں آنکھیں کھولیں۔لیکن افسانہ پیچھے کیوں رہ گیا؟آپ نے مزید کہا کہ ۳۷ مضامین پر مشتمل اس کتاب میں کم از کم پندرہ ایسے مضامین ہیں جو از سرِ نو تفہیم کی دعوت دیتے ہیں ۔اس کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے اس مذاکرہ میں اپنے خیالا کا اظہار کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کا شکریہ ادا کیا۔اس جلسہ میں بڑی تعداد میں طلباء، اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز شامل تھے۔

پروفیسر ارتضیٰ کریم کے ساتھ ایک ملاقات

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے نئے ڈائرکٹرپروفیسر ارتضٰی کریم
کے ساتھ ایک ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔اس خاص جلسے کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق ارحمن قدوائی نے کی ۔اس جلسہ میں دلّی کی تینون یونیورسیٹیوں کے اردو و فارسی اساتذہ کے علاوہ تمام اردو اداروں کے سر براہوں کو مدعو کیا گیا تھا۔اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلرجناب شاہد مہدی نے کہا کہ قومی کونسل اردو کاایک بڑا علمی سرکاری ادارہ ہے۔اس ادارہ کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ادب اور زبان کو فروغ دے۔پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ارتضی کریم دلجمعی کے ساتھ کام کریں گے اور اردو کی رگوں میں تازہ خون دوڑانے کی کوشش کریں گے ۔پروفیسرقاضی عبید الرحمن ہاشمی نے کہا کہ یہ ہمارا اخلاقی فرض بھی بنتا ہے کہ ہم نئے ڈائرکٹر کی ہمت افزائی کریں۔پروفیسر ارتضیٰ کریم کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمت اور حوصلہ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ فارسی کے صدر پروفیسرعراق رضا زیدی نے اپنے اظہارِ خیال میں کہا کہ فارسی زبان اردو زبان کی پاسدار ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ کونسل کو اردو والوں کے ساتھ ساتھ فارسی کے اسکالرز کوبھی ادارے سے وابستہ کریں۔دہلی یونیورسٹی شعبہ فارسی کے صدر پروفیسرچندر شیکھر نے کہا کہ اردو زبان اُسی وقت ترقی کے منازل طے کرے گی جب ہم اُس کوفارسی سے بھی جوڑ کر دیکھیں۔جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ،معین الدین جینا بڑے نے پروفیسر ارتضی کریم سے اپنی پرانی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ارتضیٰ کریم کا ایک جملہ ہمیشہ یادآتا ہے ،جب انہوں نے مجھ سے پہلی ملاقات میں کہا تھا کہ ’ادارے ارادے سے چلتے ہیں ‘ اور یہ ارادے کے پکّے ہیں۔کشمیر یونیورسٹی سے تشریف لائے پروفیسر قدوس جاوید نے کہا فارسی و عربی زبان کو ساتھ لیکرہی اردو زبان کا فروغ ممکن ہے ۔آپ نے مزید کہاکہ کونسل کواپنے اشاعتی کام کو مزید آگے بڑھانا چاہئے۔دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہاکہ این سی آر ٹی کے طرز پر قومی کونسل کے کتابوں کی قیمت بھی کم ہونی چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔چوتھی دنیا کی ایڈیٹرڈاکٹر وسیم راشد نے اپنی گفتگو میں پروفیسر ارتضیٰ کریم کوان کواس نئے منصب کے لئے مبارک باد پیش کی۔جناب چندر بھان خیال نے ارتضیٰ کریم سے اپنی برسوں کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے عزم و ارادہ کے پکّے ہیں لہٰذا یہ کونسل کو بھی ترقی کے منازل پہ لے جائیں گے۔مشہور ناول نگارجناب پیغام آفاقی نے کہا کہ یہ دور چیلنجز سے بھرا دور ہے لہٰذا ہمیں اردو کوبلند مقام پے لے جانے کے لئے دوسری زبانوں کے لٹریچراورٹیکنیک سے بھی واقف ہونے کی ضرورت ہے۔اوپن اسکول کے ایڈمنسٹریٹیو آفیسرڈاکٹر شعیب رضا خاں نے نئے ڈائرکٹر کو مبارک باد دیتے ہوئے یہ خواہش ظاہر کی کہ امید ہے کہ اردو زبا ن کے فروغ کے لئے قومی کونسل ،نیشنل اوپن اسکول کے بچوں کے اردو کی نصابی کتابوں کو زیادہ سے زیادہ منظرِ عام پر لانے میں اپنا تعاون دے گی۔غالب اکادمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ ماضی میں قومی کونسل کے ذریعہ ہمارے یہاں کمپیوٹر کا کورس جاری تھا ، جس وجہ سے آج بھی طلباء کثیر تعداد میں اردوزبان و ادب و نصاب سے متعلق معلومات لینے آتے ہیں ۔اور ہمیں امید ہے نئے ڈائرکٹر کی سرپرستی میں یہ کام مزید تیزی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ساہتیہ اکادمی کے پروگرا م آفیسرڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ پروفیسر ارتضیٰ کریم ایک فکشن نقاد کی حیثیت سے علمی دنیا میں جانے جاتے ہیں اور یہ خوش آئند بات ہے کہ فکشن حضرات بھی اب انتظامی امور میں پیش پیش ہیں ۔جلسہ کے صدر پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے پروفیسر ارتضیٰ کریم کو اُن کے اس نئے منصب کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اردو دنیا کو پروفیسر ارتضیٰ کریم سے کافی توقعات وابستہ ہیں اور ہمیں پوری امید ہے کہ یہ ہماری توقعات پر پورے اُتریں گے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرنے اپنے افتتاحی کلمات میں تمام مہمانوں کااستقبال کرتے ہوئے پروفیسر ارتضیٰ کریم کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ارتضیٰ کریم اردو دنیا میں ایک بڑے نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں،ہمیں پوری امید ہے کہ وہ نئے ڈائرکٹر کی حیثیت سے اردو زبان و ادب کے فروغ میں بھی ایک اہم رول ادا کریں گے۔اس جلسہ میں بڑی تعداد میں صحافی، ریسرچ اسکالرز، یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد موجود تھے۔

’’بلراج مَین را: ایک ناتمام سفر‘‘ پر مذاکرہ منعقد

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ’’شامِ شہریاراں‘‘ کے موقع پر نوجوان اسکالر اور شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اُستاد ڈاکٹر سرورالہدیٰ کی تازہ ترین کتاب’’بلراج مَین را: ایک ناتمام سفر‘‘ پرایک مذاکرے کا اہتمام ۲۹؍مئی ۲۰۱۵ ایوانِ غالب میں کیاگیا۔ اس جلسے کی صدارت پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی اور اورمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے جناب بلراج مین رانے شرکت کی۔ڈاکٹررضاحیدر نے ابتدا میں کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس خیال کااظہارکیاکہ ’’بلراج مین راایک ناتمام سفر‘‘مین را پر پہلی باضابطہ کتاب ہے۔ اس طرح کی کوئی کتاب کسی عہدِحاضر کے کسی اہم افسانہ نگار پر نہیں لکھی گئی۔ڈاکٹر خالد جاوید نے بلراج مین را کی افسانہ نگاری کاتخلیقی انداز میں ذکرکیا اور اس خیال کااظہارکیاکہ جدیدیت کی کہانی بلراج مین را کی کہانیوں کے بغیر اپنا کوئی اختصاص قائم نہیں کرسکتی۔ سرورالہدی نے مین را کی کہانیوں کوایک سنجیدہ قاری کے طورپر سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے،انہوں نے تجزیہ میں اُن تمام امکانات کو کنگھالنے کی کوشش کی ہے جو عموماً تنقیدی اناکے سبب اوجھل رہے ہیں۔ریسرچ اسکالر عبدالسمیع نے دواقتباسات پڑھ کر سنائے۔فرحت احساس نے مین را اور اُن کے عہد کواُردو کاایک تخلیقی عہد قرار دیتے ہوئے مین را کے امتیازات کی نشاندہی کی،انہوں نے اس خیال کااظہارکیاکہ سرورالہدی نے مین را کے افسانوی متن کا جس انداز سے تجزیہ کیا ہے اس سے مصنف اور عہدکی مکمل نفی نہیں ہوتی،اس انداز نظرکوکسی متن اور خصوصاً مین را کے متن کوپڑھنے کاسب سے اچھازاویہ قرار دیا جاسکتا ہے۔اس مطالعہ سے مین را کا پورا عہد سامنے آجاتاہے اور مین را ایک ذہانت وبغاوت اور بے پناہ تخلیقیت کا استعارہ بن کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ پروفیسر شمس الحق عثمانی نے مین را اور اُن کے عہد کو یاد کرتے ہوئے اس دُکھ کااظہارکیاکہ وہ عہد شاید دوبارہ واپس نہ آسکے۔انہوں نے مین راکی کہانیوں کومنفردقرار دیتے ہوئے اُس عہد کی کہانیوں کے ساتھ بھی رکھ کر دیکھنے پر زور دیا۔انہوں نے بلراج مین را ایک ناتمام سفر کومین را اورنئی کہانی کاایک اہم تجزیاتی مطالعہ قرار دیا اور اس بات سرورالہدی کو مبارک باد پیش کی۔ پروفیسر شمیم حنفی نے بلراج مین را ایک ناتمام سفر کی اشاعت، مذاکرے اور مین را کی شرکت کو ایک اہم واقعہ قرار دیا۔انہوں نے اس خیال کا اظہارکیاکہ سرورالہدی کی اس کتاب کی اشاعت سے نہ صرف مین را بلکہ جدیدیت کے افسانوی سفر کاراز بھی کھلتانظر آتاہے۔ سرورالہدی نے مطالعہ کا جو رُخ اختیار کیاہے اُسے ہم متن کے گہرے مطالعے کا نام دے سکتے ہیں۔اس کی ایک مثال کتاب کاایک مضمون ’’کرشن چندر اور بلراج مین را کی سڑک‘‘ ہے۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنی صدارتی تقریر میں بلراج مین را ایک ناتمام سفر کی اشاعت کو نئے افسانہ کی تنقید میں ایک اہم اضافہ قرار دیا اور اس خیال کااظہارکیاکہ سرورالہدی نے ایک ایسی کتاب لکھ دی ہے جس کو پڑھ کر یہ امید بندھتی ہے کہ تنقیدی سرگرمی میں متن بنیادی حوالے کے طور پر استعمال ہوگا۔سرورالہدی نے متن سے جس طرح کا مکالمہ کیا ہے وہ نقاد سے زیادہ ایک قاری کا مکالمہ ہے۔مجھے خوشی ہے کہ بلراج مین را پر ایک ایسی کتاب آگئی جوحوالے کے طورپر استعمال ہوگی۔ لکھنؤ سے تشریف لائے اُردو کے استاد ڈاکٹر شفیق حسین شفق نے بھی اس موقع پراپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ بلراج مین را کانام جدید اُردو افسانہ میں اتنا اہم ہے کہ اُن کے تذکرے کے بغیر جدید اردو افسانہ کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ اس مذاکرے میں مختلف علوم و فنون کے افراد اور یونیورسٹیوں کے طلبا کی تعداد موجود تھی۔

Tuesday, May 26, 2015

فخرالدین علی احمد میموریل لکچرکاانعقاد 2015

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام فخرالدین علی احمد میموریل لکچرکے موقع پر عہدِ حاضر کے ممتاز ادیب و دانشور جناب اشوک واجپئی نے’’اپنی اپنی آگ، کبیر اور غالب‘‘کے موضوع پرخطبہ پیش کرتے ہوئے آپ نے امیرخسرو، تلسی داس، کبیر اورغالب کو ہندستانی تہذیب و ثقافت اور شعری روایت کا ستون قرار دیا۔ آپ نے کبیراور غالب کے کلام کا تقابلی مطالعہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ غالب اور کبیر کی شاعری کی سب سے خاص بات جس نے قاری کو سب سے زیادہ متاثرکیاوہ یہ کہ اِن دونوں نے اپنی شاعری میں ایسے الفاظ کا استعمال کیاجس کا استعمال اُن سے پہلے کم ہوتا تھا۔ آپ نے یہ بھی فرمایاکہ غالب کی غزلوں میں ہمیں حادثوں کاذکر ملتاہے اور شادمانی کابھی اوریہی باتیں ہمیں کبیرکی شاعری میں بھی دکھائی دیتی ہیں، گھرکاجو تصور غالب کے یہاں ہے وہ کبیر کے یہاں بھی ہمیں دکھائی دیتاہے اس تناظرمیں آپ نے غالب کا مصرعہ بھی پڑھ کر سنایا۔
’عرش سے اِدھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا‘
آخر میں آپ نے یہ بھی فرمایاکہ اِن حالات میں ہم ادیبوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے شاعروں کو ضرور یاد کریں جنہوں نے ملک کو جوڑ نے کی بات کہی ہے۔ اس سے قبل غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اپنے تعارفی کلمات میں اشوک باجپئی کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ آج یہ خطبہ اپنے موضوع کے اعتبارسے کافی اہم ہے او رہمیں پوری امید ہے کہ اشوک باجپئی اس موضوع کے تعلق سے ہماری سامنے ایسی باتیں پیش کریں گے جس سے ہمیں اِن دونوں شاعروں کو ایک نئے انداز سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے وائس چیرمین ڈاکٹر پرویز علی احمدنے اپنے صدارتی کلمات میں اِن عظیم شاعروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ جلسے کی ابتدامیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرنے اشوک باجپئی کاتعارف کراتے ہوئے کہاکہ اشوک باجپئی اپنی تحریروں اور تقریروں سے جتنے ہندی والوں میں مقبول ہیں اتنی ہی مقبولیت اُن کی اردو داں طبقوں میں بھی ہے۔ آپ کی ایک خاص بات یہ بھی رہی ہے کہ آپ نے ہندی اور اردو ادب کی مشترکہ روایتوں کو ہمیشہ ایک دوسرے سے جوڑ کراپنی تقریروں اور تحریروں میں پیش کیا ہے۔ اس جلسے میں جسٹس بدر دُرریزاحمد، جسٹس نجمی وزیری، محترمہ رخشندہ جلیل، پروفیسر طاہر محمود، پروفیسر شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر خواجہ محمداکرام الدین اور شاہد ماہلی کے علاوہ بڑی تعداد میں مختلف علوم و فنون کے افراد موجود تھے۔
 تھے۔








تصویر میں(دائیں سے): اشوک باجپئی،سید رضاحیدر،پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر پرویز علی احمد،جسٹس بدر دُرریز احمد

Tuesday, March 24, 2015

غالب انسٹی ٹیوٹ میں غلام ربانی تاباں پرکل ہند سمینارمنعقد

کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین،غالب انسٹی ٹیوٹ اور دہلی اردو اکادمی کے زیر اہتمام 20مارچ کو ایوانِ غالب میں یک روزہ کل ہند سمینار بعنوان ’’ غلام ربانی تاباں: شخصیت اور فن‘‘ پر سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر صدیقی الرحمن قدوئی نے کی۔ جب کہ نظامت کے فرائض غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر نے انجام دیے۔ اور کلیدی خطبہ قد آور ناقد پروفیسر شمیم حنفی نے پیش کیا۔ کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری ڈاکٹر علی جاوید استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہاکہ غلام ربانی تاباں نے 9برس وکالت کرنے کے بعد وکالت چھوڑ دی اور اپنی منفرد راہ اختیار کی تھی۔ غلام ربانی تاباں نے شاعری کو پیشے کے طور پر اختیار نہیں کیا بلکہ ان کے اندر بیٹھے تخلیق کار نے شاعری کرائی۔ وہ کہتے ہیں میں آج تک شاعری کے اسباب نہیں سمجھ سکا ہوں کہ میں نے شاعری شروع ہی کیوں کی۔ آخری دنوں میں تاباں صاحب کو اردو والوں کے رویوں سے کافی تکلیف تھی۔ ڈاکٹر سید رضا حیدر نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہاکہ تاباں صاحب ممتاز ترقی پسند شعرا میں سے ایک تھے ، ان کی نظمیں ترقی پسندی کے لہجے میں ہیں۔ مگر وہ اپنی نظموں سے غیر مطمئن بھی نظر آئے شاید یہی وجہ تھی کہ جب انہوں نے اپنی غزلیہ شاعری کی جانب رخ کیا تو پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔ پوری زندگی وہ مارکسزم کی نقش قدم پر چلتے رہے اور وہ اپنے عقیدے سے سختی سے پابند تھے۔ نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی اور مظلوموں کا ساتھ دیا۔پروفیسر شمیم حنفی نے پر مغز کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کی شخصیت میں عجیب و غریب بات یہ تھی کہ جو وہ باہر تھے وہی اندرون بھی تھے۔ تاباں غیر معمولی سماجی سروکار کے شاعر تھے۔ وہ انگریزی میں بھی لکھا کرتے تھے تاکہ ان کی آواز دوسروں تک بھی پہنچ سکے۔ وہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ اختلاف و انتشار پیدا ہو۔ تاباں کی شاعری اور صحافت تحیرات سے اپنے دامن کو بچاتی ہے۔ تاباںؔ کو یاد کرنا کھوئے ہوئے سندیسے کو یاد کرنا ہے۔ بطور مہمان خصوصی پاکستانی ادیبہ فہمیدہ ریاض نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں مارچ 1981میں جلاوطن ہوکر ہندوستان آئی تو تاباںؔ سے میرے تعلقات کافی اچھے تھے۔ تاباں دنیا کی دولت کے پیچھے نہیں بھاگتے تھے تاکہ ان کا ضمیر انہیں ملامت نہ کرے۔ ایسی صورت میں وہ کافی مطمئن بھی رہا کرتے تھے۔ ترقی پسند تحریک سے ان کی وابستگی تاحیات رہی ۔ ہندوستان کی یادوں میں میری بہت پیاری یاد غلام ربانی تاباں کی ہے۔ پاکستانی شاعر پروفیسر سحر انصاری نے کہاکہ ترقی پسندی سے جو ہم لوگوں نے روشنی حاصل کی ہے اس میں تاباںؔ کا بھی اہم کردار تھا۔ پاکستان میں مکتبہ دانیال نے ان کا انتخاب شائع کیا ہے۔ صدارتی خطبہ دیتے ہوئے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے تاباں کی شاعری کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی اور کہاکہ میرا ادبی رابطہ ان سے کافی گہرا تھا ان کے بیٹے اقتدار عالم اور افتخار عالم میرے اچھے دوست بھی تھے۔ جبکہ پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر ابوبکر عباد نے اظہار تشکر ادا کیا۔افتتاحی اجلاس کے بعد مقالوں کے پہلے اجلاس کی صدارت پاکستان سے آئے شاعر انور شعور اور شاہد ماہلی نے کی جب کہ نظامت کے فرائض سفینہ نے انجام دیے۔مجیب رضوی،پروفیسر علی احمد فاطمی ،شعیب رضا فاطمی،ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر انور پاشا نے مقالات پیش کیے۔اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر علی احمد فاطمی اورپروفیسر ابنِ کنول نے کی جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر دانش حسین خان نے انجام دیے۔ ارشادی نیازی، احمد امتیاز ، پرویز احمد، ڈاکٹر فرحت رضوی، انوشا رضوی،سفینہ ، سرفراز جاوید منتخب موضوع کے حوالے سے گفتگو کی۔ پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر علی جاوید نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس سمینار میں مختلف علوم و فنون کے افراد اور یونیورسٹیوں کے طلبا کی تعداد موجود تھی۔


مائک پر:محترمہ فہمیدہ ریاض۔ سید رضاحیدر، ڈاکٹر علی جاوید، پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروسحر انصاری





Monday, March 2, 2015

مزارِ غالب پر یومِ غالب کا اہتمام

انجمن ترقی اردودلّی شاخ، غالب انسٹی ٹیوٹ اور غالب اکادمی کے زیر اہتمام غالب کی یومِ وفات پر مزار غالب پر یوم غالب کا اہتمام کیا گیا۔ جلسے کا افتتاح کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنی افتتاحی تقریر میں فرمایاکہ غالب کی حیات و شاعری پر اب تک بے شمار کتابیں آچکی ہیں مگر آج بھی ہم غالب کے کلام میں نئی تعبیریں اورنئے معنی تلاش کر رہے ہیں۔ غالب کے فارسی کلام پر گفتگو کرتے ہوئے آپ نے فرمایاکہ غالب کا فارسی کلام ہمیشہ ہمیں دعوتِ غور و فکر دیتا رہتا ہے۔ غالب کے فارسی کلام کا ذخیرہ اردو کلام سے کافی زیادہ ہے مگر فارسی کلام میں جتنی تحقیق و تنقید ہونی چاہئے ابھی تک نہیں ہوپائی ہے۔ انجمن ترقی اردو دہلی شاخ کے صدر ڈاکٹر خلیق انجم نے اپنی صدارتی تقریر میں غالب کی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ غالب کے خطوط کا مطالعہ بھی ہمارے لئے بے حد ضروری ہے۔غالب کے خطوط کے مطالعے کے بغیر نہ ہم غالب کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ عہدِ غالب کو۔ انجمن ترقی اردو دہلی شاخ کے جنرل سکریٹری شاہد ماہلی نے مزار غالب پر منعقد ہونے والے یومِ غالب کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ ہم مزار غالب پر پچھلے چالیس برسوں سے غالب کی یوم وفات کے موقع پریومِ غالب کا اہتمام کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہم انجمن ترقی اردو دلّی شاخ کے دائرے کو وسیع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یہ ادارہ صرف یوم غالب تک محدود نہ رہے بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ میں بھی یہ ادارہ اہم رول ادا کرسکے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدرنے جلسہ کے آغازمیں غالب کی حیات و خدمات پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ غالب ہمارے اُن بڑے شاعروں میں سے ہیں جن کی یومِ ولادت اور یومِ وفات پر ہم یاد کرکے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ آپ نے مزید کہا کہ غالب ملک کے تمام مذاہب کے لوگوں میں اس لئے بھی بھی پسند کئے جاتے ہیں کہ انہو ں نے قومی یکجہتی پر سب سے زیادہ زور دیاہے جس کی سب سے بڑی مثال اُن کی فارسی مثنوی چراغ دیر ہے۔ معروف ادیب ڈاکٹر سلیل مشرانے بھی غالب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے غالب کے کلام کی عالمانہ اندازمیں تشریحات پیش کی۔ غالب اکادمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے تمام سامعین، مقررین اور اہل علم کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر استاد انیس احمد خاں نے اپنی خوبصورت آواز میں غالب کا کلام پیش کیا۔ سمینار کے بعد غالب کی زمین میں ایک طرحی مشاعرہ کا انعقاد کیا جس کی صدارت گلزار دہلوی نے کی اور دلّی اور بیرونِ دلّی کے اہم شعرانے اپنا کلام پیش کیا۔ انجمن ترقی اردو دلّی شاخ کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر ادریس احمدا،انجمن کے ممبر اقبال مسعود فاروقی اور محترمہ ہاجرہ منظور نے اس جلسہ کے انعقاد میں اپنا بھرپور تعاون پیش کیا۔ 

Monday, December 15, 2014

سالانہ غالب تقریبات

غالب انسٹی ٹیوٹ زیراہتمام بین الاقوامی غالب تقریبات کاانعقاد
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام بین الاقوامی غالب سمینار کی افتتاحی تقریب۱۹؍دسمبر کوشام چھ بجے منعقدکی گئی جس میں نائب صدر غالب انسٹی ٹیوٹ، پرویز علی احمد کے دستِ مبارک سے غالب انعامات کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس موقع پرعہد حاضر کے معروف نقادپروفیسرقاضی افضال حسین کوغالب انعام برائے اردو تحقیق و تنقید،فارسی کے ممتاز اسکالرپروفیسرنبی ہادی کوفخرالدین علی احمدغالب انعام برائے فارسی تحقیق و تنقید،مشہور افسانہ نگارپروفیسر عبدالصمد کوغالب انعام برائے اردو نثر،معروف شاعرجناب مضطرمجازکوغالب انعام برائے اردو شاعری ملک کے اہم اداکار اور تھیئٹر آرٹسٹ جناب ٹام آلٹر کوہم سب غالب انعام برائے اردو ڈرامہ سے نوازا گیا اورپروفیسر شمس الحق عثمانی کومجموعی ادبی خدمات کے ایوارڈ سے سرفرازکیا گیا۔ ہرایوارڈ یافتگان کی خدمت میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ۷۵ہزار روپے اورمومنٹوپیش کیاگیا۔
اس موقع پرغالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری ،پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ ہم غالب تقریبات کے موقع پر نہ صرف غالب کو یاد کرتے ہیں بلکہ ہم اُن ادیبوں اور دانشوروں کوبھی یاد کرتے ہیں جنہوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیاہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ سمیناراردو، حالی، شبلی اور محمد حسین آزادکی نثرپرکیاہے ان حضرات نے اردو نثرکو اتنی تونائی عطاکی کہ آج ہماری اردو نثر ان کی رہینِ منت ہے۔
ممتاز ادیب و دانشورپروفیسر ابوالکلام قاسمی نے بین الاقوامی غالب سمینارجو:’’ جدید اردو نثر کے معمار:محمد حسین آزاد حالی اور شبلی‘‘کے موضوع پر منعقد کیااُس کا افتتاح اپنے کلیدی خطبہ سے کیا۔ پروفیسرابوالکلام قاسمی نے فرمایاکہ محمد حسین آزاد، حالی اور شبلی نے اردو ادب کو اتنی اہم کتابیں دیں جو ہمارے لئے دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ نے اپنی گفتگو میں محمد حسین آزاد کی نثرکاخصوصیت کے ساتھ ذکرکیا۔ حالی کی نثرکاذکر کرتے ہوئے آپ نے کہاکہ مقدمہ شعروشاعری ہمارے ادب کی اتنی اہم کتاب ہے جو آج بھی ہماری رہنمائی کررہی ہے۔ حالی کی تنقید نگاری نے بہت سے نئے نئے پہلو پیش کیے۔ 
جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے جسٹس جناب آفتاب عالم نے اپنے صدارتی کلمات میں فرمایاکہ ہمیں اِن تمام اسکالرز کو غالب انعامات دیتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے۔ آپ نے موضوع کے تعلق سے فرمایاکہ اِن تینوں ادیبو ں نے اردو نثرکے فروغ میں اتنا اہم کردار ادا کیاہے جسے ہماری ادبی تاریخ میں بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا، اِن تینوں حضرات نے نثرکے علاوہ اور بھی کئی اردو اصناف خدمات ادا کی ہیں۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سید رضاحیدر نے افتتاحی تقریب کی نظامت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ کارکردگی و ادبی سرگرمیوں کی تفصیلات اور مہمانان کا تعارف پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ ادارہ اپنے علمی ،ادبی،تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی وجہ سے نہ صرف ہندستان میں بلکہ پوری دنیامیں جانا جاتا ہے۔آپ نے موضوع کے تعلق سے فرمایاکہ محمدحسین آزاد،حالی اور شبلی ہمارے کلاسیکی ادب کے اُن ممتاز ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی نثرکے ذریعے پورے عہدکو متاثرکیا۔ حالی کی یادگارِ غالب، محمد حسین آزادکی آب حیات اورعلامہ شبلی نعمانی کی موازنۂ انیس و دبیریہ تینوں کتابیں ہماری ادبی تاریخ میں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔
نائب صدر غالب انسٹی ٹیوٹ، پرویز علی احمد،جسٹس بدر دُرریزاحمد اورجسٹس آفتاب عالم کے دستِ مبارک سے غالب انسٹی ٹیوٹ کی شائع کردہ نئی مطبوعات کلاسیکی ادب اور ترقی پسند تنقیدمرتبہ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی ،مجاز،:حیات و خدمات،مرتبہ،ڈاکٹر رضاحیدر،گنجینۂ معنی کا طلسم،ڈاکٹر اسلم پرویز، غالب نامہ کے دونوں شمارے(جولائی۲۰۱۴،جنوری ۲۰۱۵) کے علاوہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی سال۲۰۱۵ء کی ڈائری،کلینڈر، اورسال بھر کی سرگرمیوں کے ایک کتابچہ کارسمِ اجراء بھی عمل میں آیا۔ 
آخر میں ادارے کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدر نے تمام سامعین کااور مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔
سمینار کی افتتاحی تقریب کے اختتام پرشانتی نکیتن سے تشریف لائی مشہور و معروف غزل سنگر محترمہ موسمی رائے نے نے غالب، رومی، جامعی اور فارسی کے شعرا کی غزلیں پیش کیں۔
سمینار کے دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں مشہورنقاد اور دانشور پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے صدارت کی۔ مہمانِ خصوصی کی حثییت سے پروفیسر ابنِ کنول شریک رہے۔ابوالکلام قاسمی نے حالی اورشبلی کے نظامِ نقد اور اُن کے تصور تنقید پرروشنی ڈالتے ہوئے اپنے صدارتی خطبہ میں کہاکہ اردو نثرکے سب سے اہم ستون حالی اورشبلی ہیں۔پروفیسرابنِ کنول نے حالی اور شبلی کی گراں قدر خدمات کااعتراف کیااس جلسہ میں تین مقالہ پڑھے گئے پہلامقالہ ڈاکٹر وسیم بیگم نے حالی کی حیات جاوید کاتنقیدی جائزہ کے عنوان سے پڑھا۔اسی عنوان کے تحت دوسرا مقالہ ڈاکٹر مظہری نے پیش کیا۔ اس جلسہ کا آخری مقالہ جناب شاہد ماہلی نے پیش کیا۔انہوں نے شبلی کی سیاسی بصیرت کے عنوان سے شبلی کی سیاسی بصیرت پر روشنی ڈالی۔ اس جلسہ کی نظامت نورین علی حق نے کی۔ چائے کے وقفے کے بعد دوسرا اجلاس جناب شاہدمہدی کی صدارت میں منعقد ہوااس جلسہ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے پاکستان سے تشریف لائے معروف شاعر اور نقاد پروفیسر اصغر ندیم نے شرکت کی۔ اس جلسہ میں چار مقالہ پیش کیے گئے۔ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے ایک منفرد موضوع حالی کا تصور تاریخ پیش کیا۔انہوں نے حالی کے تصور تاریخ پرگفتگو کرتے ہوئے تاریخ کے متن کوایک بیانیہ کے طورپر دیکھنے کی کوشش کی۔دوسرا مقالہ ڈاکٹرسیدتقی عابدی کا تھاانہوں نے آزاد،حالی اور شبلی کی نثری خدمات کا جائزہ لیا۔پروفیسر قاضی جمال حسین نے شبلی کی نظامِ نقد کابھرپور جائزہ پیش کیا۔ انہو ں نے اس بات پر زوردیاکہ شبلی مغرب سے مرعوب نہ تھے بلکہ انہوں نے مغرب کے مقابلے میں مشرقی شعریات کو اہم جانا۔پروفیسر عتیق اللہ صاحب نے مغربی سیاق میں شبلی کے نظام نقد کا جائزہ پیش کیا۔ سمینار کے دوسرے دن کاتیسرا اجلاس معروف فکشن نگارجناب انتظارحسین صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔ اس جلسہ میں ڈاکٹر اطہرفاروقی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس جلسہ میں تین مقالہ پیش کیے گئے۔ انتظار حسین نے اپنی صدارتی تقریر میں اس بات کی شکایت کی کہ سمینارکے تمام مقالے صرف حالی اور شبلی پر مرکوز ہیں اس میں محمدحسین آزاد کاذکر نہیں آیا۔ حالانکہ یہ سمینار آزاد،حالی اور شبلی کی تثلیث پرقائم کی۔ اس لیے آزاد کاذکر ضروری ہے۔چائے کے وقفے کے بعدآخری اجلاس شروع ہوا۔اس جلسہ میں پروفیسرخالدمحمودمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شامل ہوئے۔ پروفیسر زماں آزردہ نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔ ڈاکٹر احمدامتیاز،ڈاکٹر یوسف عامر اورایلین ڈیسولیئرنے مقالے پیش کیے۔نظامت محترمہ سفینہ بیگم نے کی۔گذشتہ سال کی طرح امسال بھی۲۰ دسمبر۲۰۱۴ شام سات بجے بین الاقوامی غالب تقریبات کے موقع غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عالمی مشاعرہ کاانعقاد ایوانِ غالب میں کیاگیا۔ جس میں ملک اور بیرونِ ملک کے اہم شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ اس عالمی مشاعرے کی صدارت کینڈا سے تشریف لائے ڈاکٹرسیدتقی عابدی نے انجام دی۔ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر سراج اجملی نے انجام دیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سیدرضاحیدرنے اپنی افتتاحی تقریر میں اس مشاعرے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کایہ مشاعرہ ہندستان کے تمام مشاعروں سے اس لیے منفرد ہے کہ ہم اس مشاعرے میں اُن ہی شعراکو مدعو کرتے ہیں جن کے کلام ملک کے معیاری رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں اوراِن شعراء کے کلام کو علمی و ادبی دنیا میں عزت کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ اس مشاعرے میں طلبہ، اساتذہ، اسکالرز، شعراکے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔ 
بین الاقوامی غالب سمینارکے تیسرے دن کے پہلے اجلاس کاانعقاد پروفیسر صادق کی صدارت میں صبح دس بجے شروع ہوا۔اس جلسہ میں چارمقالہ پڑھے گئے۔پہلا مقالہ معید رشیدی کاتھا،ڈاکٹر نورفاطمہ اورڈاکٹر شمس بدایونی کے علاوہ اس جلسہ میں پاکستان سے تشریف لائے معروف فکشن نگارجناب انتظارحسین نے آزاد،حالی اور شبلی کے حوالے سے نہایت اہم مقالہ پیش کیا۔اس جلسہ کی نظامت ڈاکٹر جاوید رحمانی نے کی۔دوسرا اجلاس پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی صدارت میں شروع ہوا۔اس جلسہ میں جناب انتظارحسین مہمانِ خصوصی کے طورپر شامل ہوئے۔آخری دن کے دوسرے جلسہ میں چار مقالے پیش کیے گئے،ڈاکٹر علی جاوید کے علاوہ پروفیسر انیس اشفاق نے موازنہ کاقضیہ،ڈاکٹر اصغرندیم سید نے حالی کے تنقیدی امتیازات پر روشنی ڈالی۔پروفیسر قاضی افضال حسین نے حالی کے تنقیدی افکارکاجائزہ پیش کیا۔ لنچ کے وقفہ کے بعد تیسرا اجلاس پاکستان سے تشریف لائے معروف اسکالر ڈاکٹر اصغرندیم سید کی صدارت میں دوپہردوبجے شروع ہوا۔اس جلسہ میں پانچ مقالے پڑھے گئے۔ پروفیسر شریف حسین قاسمی،قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، پروفیسر انورپاشااورڈاکٹر خلیق انجم نے جدیداردو نثر کے معمار آزاد،حالی اور شبلی کے مختلف پہلوؤں کاجائزہ لیا۔پروفیسر مظہرمہدی نے آزادکوانگریزی مشین کے ایک پُرزے کے طورپر دیکھنے کی کوشش کی۔اختتامی جلسہ میں پاکستان سے تشریف لائے جناب انتظارحسین،ڈاکٹر اصغر ندیم سیداور مصرسے تشریف لائے ڈاکٹر یوسف عامر نے سمینار کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اور غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی کی کاوشوں کوسراہااوریہاں کے اراکین ادارہ کوسمینار کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ اختتامی جلسہ کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے انجام دی۔ اورمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے شرکت کی۔اس جلسہ کی نظامت غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدرنے انجام دی۔ اورجناب شاہد ماہلی نے تمام شرکاکا شکریہ ادا کیا۔آخری جلسہ میں سمینار میں تشریف لائے تمام اسکالرس اورہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں سے تشریف لائے اور طلبا اور طالبات کی خدمت میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی مطبوعات پیش کی گئیں۔ غالب تقریبات کے اختتام پر ہم سب ڈرامہ گروپ(غالب انسٹی ٹیوٹ) اوربہروپ آرٹس گروپ کی طرف سے کرخواجہ احمدعباس کا تحریر کردہ اُردو ڈرامہ ’’اجنتا کی طرف‘‘پیش کیا گیا،،جس کی ہدایت کے فرائض جناب اروند آلوک انجام دیے۔

غالب انسٹی ٹیوٹ میں عالمی مشاعرہ کا انعقاد

گذشتہ سال کی طرح امسال بھی ۲۰ دسمبر۲۰۱۴ شام سات بجے بین الاقوامی غالب تقریبات کے موقع پرغالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عالمی مشاعرہ کاانعقاد ایوانِ غالب میں کیاگیا۔ جس میں ملک اور بیرونِ ملک کے اہم شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ اس عالمی مشاعرے کی صدارت کینڈا کے ممتاز ادیب و دانشور ڈاکٹر سید تقی عابدی نے انجام دی۔اور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ملک کے اہم شاعر اور اس سال کے غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شاعری کے غالب انعام یافتہ شاعرمضطرمجاز موجود تھے۔ نظامت کا فریضہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی شعبۂ اردو کے سینئر استاد ڈاکٹر سراج اجملی نے انجام دیا۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سیدرضاحیدرنے اپنی افتتاحی تقریر میں اس مشاعرے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کایہ مشاعرہ
ہندستان کے تمام مشاعروں سے اس لیے منفرد ہے کہ ہم اس مشاعرے میں اُن ہی شعراکو مدعو کرتے ہیں جن کے کلام ملک کے معیاری رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں اوراِن شعراء کے کلام کو علمی و ادبی دنیا میں عزت کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ اس مشاعرے میں طلبہ، اساتذہ، اسکالرز، شعراکے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔ پیش ہیں کچھ شعرا کرام کے منتخب کلام:
گذرجاتی ہے ساری زندگی جن کے تعاقب میں
بگولے ہیں کسی بھی خواب کی صورت نہیں ہوتی
عذرا نقوی
کس کی تعریف کریں، کس کے قصیدے لکھیں
نفسِ مضمون سے بڑھ کر ہیں حوالے اچھے
مہتاب حیدر نقوی
سجدوں کو کیا رسم و تکلف
کیا جادہ سجادہ پرسی
نسیم عباس
میری قسمت کا ستارا ہے چمکنے والا
میرے بارے میں ووٹر کاخیال اچھا ہے
اس بھروسے پہ الیکشن میں کھڑا ہوں میں بھی
اک نجومی نے کہا کہ یہ سال اچھا ہے
اعجاز پاپولر
آہستہ آہستہ ایسا وقت بھی آئے گا
جب روشن سورج کا تعارف دیا کرائے گا
مضطر مجاز
نظر بت تراشوں کی جن کو ملی ہے
چٹانوں کے اندر صنم دیکھتے ہیں
تقی عابدی
خود سے ملنے کی بھی جستجو کیجئے
دل جو تنہا ملے گفتگو کیجئے
اسد رضا
وہ برگ و بار اُگائے ہیں ہم نے گلشن میں
مسل بھی جائیں تو اِن سے حِنا نکلتی ہے
ڈاکٹر ناشِر نقوی
کہاں کا پیڑ، نہیں پھوٹی کوئی کونپل بھی
ہزاروں آرزوئیں دل میں بوچکیں آنکھیں
ڈاکٹر ظفر مراد آبادی
عبارتیں تیرے چہرے کی یوں بھی ہیں ازبر
کہ اس کتاب کو میں نے پڑھا زیادہ ہے
وقار مانوی
عزم و ایثار و وفا کا جو ہنرجانتے ہیں
بس وہی قافلے آدابِ سفر جانتے ہیں
قیصر اعظمی
میں چاہ کر بھی ترے ساتھ چل نہیں سکتا
اے نسلِ نو تری رفتار کچھ زیادہ ہے
اقبال اشہر
بس ایک بار ترا عکس جھلملایا تھا
پھر اس کے بعد مرا جسم تھا نہ سایہ تھا
راشد انور راشد
اُدھر کے رُخ سے جو دیکھ آئے سو دیکھ آئے
اِدھر سے دیکھو کچھ اور منظر دکھائی دے گا
راشد جمال فاروقی
مزا نہ آیا کہانی میں کچھ ہمارے بغیر
جہاں کٹے تھے وہیں پھر رقم کئے گئے ہم
شکیل اعظمی
راہ و رسم اس کی امیرالبحر سے کیا خاک تھی
پیاس سے بے تاب اب پھرتا ہے دریا آشنا
سراج اجملی
میں اُس کی بزم ناز میں ہوکر بھی آگیا
الجھا رہا زمانہ ثواب و عذاب میں
افضل منگلوری
بدل گئے ہیں تقاضے حیات کے پھر بھی
کسی سے پیار ہمیں اب بھی آہ کتنا ہے
شاہد ماہلی
جناب شاہد ماہلی کے اظہارِ تشکّر کے ساتھ مشاعرہ کااختتام ہوا۔
۔۔۔۔