Tuesday, August 19, 2014

ڈاکٹراقبال مرزا کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیو ٹ میں تعزیتی میٹنگ

معروف ادیب،شاعر،دانشور اور ماہنامہ ’صدا‘(لندن) کے مدیر ڈاکٹر اقبال مرزا کا ۱۸اگست کو لندن میں انتقال ہوگیاآپ کے انتقال سے پوری اردو دنیامیں زبردست سوگ کا ماحول برپا ہوگیاہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ میں جیسے ہی آپ کے انتقال کی خبرپہنچی فوراً ہی تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایاکہ اقبال مرزاکی وفات اردو دنیا کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے۔لندن میں رہ کر جس سنجیدگی سے آپ اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دے رہے تھے اُس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سے آپ کا گہرا رشتہ تھاہر سال غالب انسٹی ٹیوٹ کے بین الاقوامی سمینار میں شرکت کرتے تھے اور ہم سبھی اُن کے افکارو خیالات سے مستفید ہوتے تھے۔ جناب شاہد ماہلی نے مرحوم سے اپنے دیرینہ روابط کاذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ جناب اقبال مرزاسے میرا تقریباً ۳۰ سال پرانا علمی و ادبی رشتہ تھا، وہ مجھے بے حد عزیز رکھتے تھے میں اُن کی میگزین کے مشاورتی بورڈ میں تھا۔ لندن جیسی جگہ میں رہ کراپنے رسالے کے ذریعے جس طرح سے اردو زبان و ادب کے تعلق سے وہ پورے یوروپ کی نمائندگی کررہے تھے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ اُن کے انتقال سے مجھے ذاتی طورپر بے حد صدمہ پہنچا ہے مگر موت برحق ہے اور ہرشخص کو اُس کی گرفت میں آنا ہے، مرحوم اقبال مرزا اپنے علمی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے بھی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اقبال مرزا ایک بڑے ادیب کے ساتھ ہردالعزیز اور اعلیٰ اخلاق کے حامل انسان تھے۔ وہ اپنے دوستوں اور چھوٹوں سے نہایت ہی محبت اور شفقت سے ملتے تھے۔ اپنی دانشوری سے ماہنامہ ’صدا‘ کو انہوں نے کافی بلندی تک پہنچایا۔ ہماری دعاہے کہ پروردگار عالم اُن کے درجات میں اضافہ کرے۔ اس تعزیتی جلسے میں خورشید عالم، اقبال مسعود فاروقی، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر سہیل انور، عبدالواحد،یاسمین فاطمہ،محمدعمر اور عبدالتوفیق کے علاوہ تمام اسٹاف نے شرکت کی اور رنجم و غم کا اظہار کیا۔

Monday, June 23, 2014

Sunday, June 15, 2014

مخطوطات کی اہمیت پر دو روزہ سمینارمنعقد

 غالب انسٹی ٹیوٹ اور رامپور رضالائبریری کے زیراہتمام ’’رامپور رضالائبریری اور غالب انسٹی ٹیوٹ میں موجود فارسی اور اُردو کے مخطوطات، تاریخ، ادب اور ثقافت کا مآخذ‘‘ کے موضوع پرمنعقدہونے والے سمینار کے افتتاحی اجلاس میں معروف فارسی اسکالراورانسٹی ٹیوٹ آف پرشین ریسرچ (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)کی ڈائرکٹرپروفیسرآذر میدُخت صفوی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے رام پور رضالائبریری اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے مخطوطات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ان دونوں لائبریریوں میں رکھے ہوئے مخطوطات ہماری علمی،ادبی ،تہذیبی اور تاریخی زندگی کانہایت قیمتی سرمایہ ہے۔ خصوصاً انہوں نے رضا لائبریری کے مخطوطات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں رکھے ہوئے مخطوطات اتنے نادر اور نایاب ہیں کہ اس کی مثال دنیا کے کسی خطے کی لائبریری میں کم ہی دکھائی دیتی ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایاکہ مخطوطات کی کیٹلاگ سازی کابھی پورا خیال رکھنا چاہیے۔ اور مجھے پوری امید ہے کہ مخطوطات کی افادیت پر ہونے والے اس سمینار کے اختتام کے بعد ہم اس نتیجے پر ضرورپہنچیں گے جو ہماری علمی دنیا میں کافی سودمند ثابت ہوں گے۔پروفیسر صفوی نے اپنی تقریر میں غالب انسٹی ٹیوٹ اور رضالائبریری کی تاریخی حیثیت پر بھی گفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ دونوں ادارے اپنی شاندارعمارتوں کے ساتھ ساتھ اہم علمی و ادبی امور بھی انجام دے رہے ہیں ۔ رام پور رضا لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر سید محمد عزیز الدین حسین نے اپنی افتتاحی تقریر میں رضالائبریری رام پور کے مخطوطات کی اہمیت پرگفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ رضا لائبریری رام پور میں موجود بیشتر مخطوطات ایسے ہیں جن کاپوری دنیامیں کوئی دوسرا نسخہ موجود نہیں ہے۔یہاں عربی،فارسی، اردو،پشتو،سنسکرت، ترکی اوردیگر زبانو ں کے تقریباً ۱۷ ہزار مخطوطات ہیں جو اپنے سرمایہ کے اعتبار سے پورے برصغیر میں امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ پروفیسر سید محمد عزیز الدین حسین نے رام پور رضالائبریری کے شائع ہوئے مخطوطات پرتبصرہ کرتے ہوئے فرمایاکہ یہاں کے بیشترمخطوطات کتابی شکل میں شائع ہوکر علمی دنیامیں کافی مقبول ہو رہے ہیں۔تاریخ فیروزشاہی اوررامائن کے ترجمہ کابھی آپ نے خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے صدارتی خطبہ میں اپنی نوعیت کے اعتبار اس منفرد سمینار پر خوشی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقیناًیہ سمینارطلبا ،ریسرچ اسکالر،اساتذہ اور اہل علم کے لیے کافی معاون ثابت ہوگا۔آپ نے یہ بھی فرمایاکہ آج بھی ہمارے ملک کے چھوٹے چھوٹے شہروں ،قصبات اوردیہات کے بیشتر گھروں میں اردو اور فارسی کی ایسی چیزیں مل جائیں گی جوہماری علمی زندگی میں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں مگر وقت اور حالات کی وجہ سے ان پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہم نے اپنے اس قیمتی ورثہ کو سنبھال کر نہ رکھاتو ہم اپنی شاندار تاریخ سے محروم ہوجائیں گے۔مشہور ماہر تعلیم اورنیشنل یونیورسٹی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر سید عرفان حبیب جو اس سمینار میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیاکہ آج بھی اس ملک میں مخطوطات کا اتنا عظیم سرمایہ موجود ہے کہ جتنا اہم اور معتبر سرمایہ دنیا کے کسی ملک میں کم ہی ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایاکہ آ ج بھی ہندستان کی بے شمار ایسی لائبریری اور ادارے موجود ہیں جہاں مخطوطات کا اہم ذخیرہ ہے مگر بے توجہی کی وجہ سے وہ تمام ذخائرتباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ذاتی ذخیرہ بھی لوگوں کے پاس کافی موجود ہیں مگر وہ تمام ذخائر انتہائی خراب حالت میں ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹرڈاکٹررضاحیدر نے اپنی گفتگو میں فرمایاکہ مخطوطات ہماری علمی ادبی، تہذیبی اور تاریخی وراثت کا اتنا عظیم سرمایہ ہے کہ اگر ہم نے ان پر توجہ نہیں دی توہم ماضی سے کٹ جائیں گے اور ہماری شناخت ختم ہوجائے گی۔آج پوری دنیامیں مخطوطات کے تحفظ پر انقلابی سطح پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے اوراس ملک میں سرکاربھی اس کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔آپ نے اس بات پر افسوس کااظہارکیاکہ ماضی میں ہماری بے توجہی کی وجہ سے ہمارے ملک کی اہم لائبریریوں اور اداروں کے مخطوطات بیرونِ ملک کی لائبریریوں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر رضاخیدر نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے مخطوطات کاتعارف کراتے ہوئے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ میں رکھے ہوئے مخطوطات علمی اعتبار سے کافی اہم ہیں اور ان پروقتاً فوقتاً تحقیق ہونے کی ضرورت ہے۔اس موقع پرشاہد ماہلی نے بھی مخطوطات کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مخطوطات کے تحفظ پر اگر ہم نے توجہ نہیں دی تو یہ تمام سرمایہ ہماری علمی اور تہذیبی زندگی سے ختم ہوجائیں گے۔ افتتاحی کے اجلاس کے بعد دو اور اجلاس ہوئے جس میں پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر ریحانہ خاتون، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر نسیم احمد نے صدارتی فریضہ کو انجام دیا اور ڈاکٹر کلیم اصغر، ڈاکٹر اخلاق احمد آہن ، جناب شاہد ماہلی ،ڈاکٹر ارشاد ندوی، محترمہ پریتی اگروال اور سیدنوید قیصرشاہ نے مقالات پیش کیے۔ ان دونوں اجلاس کی نظامت کا فریضہ ڈاکٹر کلیم اصغر اورسید نوید قیصر شاہ نے انجام دیا۔ 

سمینار کے دوسرے دن اردو وفارسی کے اہم اسکالرز نے رضالائبریری رامپوراور غالب انسٹی ٹیوٹ میں موجود مخطوطات کی اہمیت و افادیت پر اہم گفتگو کی۔ دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں ڈاکٹرقمر عالم،ڈاکٹر احتشام الدین،پروفیسر حسن عباس، ڈاکٹر شمس بدایونی، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر ریحانہ خاتون، پروفیسر چندر شیکھر،پروفیسر شریف حسین قاسمی نے رامپور رضالائبریری اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے اُن اہم مخطوطات پر گفتگو کی جو ہماری علمی، ادبی، تہذیبی اور تاریخی وراثت کااہم مآخذ ہیں۔ خصوصاً پروفیسر چندر شیکھر، پروفیسر عراق رضا زیدی اور پروفیسر شریف حسین قاسمی نے اپنی عالمانہ گفتگو میں اس بات پرزور دیاکہ اگر ہم نے اپنے اس قیمتی ورثے کی حفاظت نہیں کی تو ہم اپنی شاندار تہذیب و راثت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجائیں گے۔اس اجلاس کی صدارت پروفیسر آذر میدُخت صفوی اور پروفیسر سیدمحمد عزیز الدین حسین نے کی اور نظامت کافریضہ ڈاکٹر شعیب رضا خاں نے انجام دیا۔سمینار کے آخری اجلاس میں ہیمنت شکلا، محترمہ ساجدہ شیروانی، ڈاکٹر تبسم صابر، ڈاکٹر مشتاق تجاروی، ڈاکٹر وسیم بیگم اور پروفیسر نسیم احمد نے مقالات پیش کیے۔ اس اجلاس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ڈاکٹر وسیم نے۴۰۰صفحات پر مشتمل غالب انسٹی ٹیوٹ سے شائع ’’دیوانِ عارف‘‘ کا جائزہ لیا جسے آپ نے خود ترتیب دیاہے۔اس اجلاس میں ڈاکٹر شمس بدایونی، پروفیسر حسن عباس اور پروفیسر 
چندرشیکھر نے صدارتی فریضے کو انجام دیااور نظامت ڈاکٹر سہیل انورنے کی۔
ان تمام مقالات میں اسکالرز کابنیادی مقصد یہ رہاکہ وہ جہاں ان دونوں علمی مراکز کے امتیازی قلمی نسخوں کا تعارف کرائیں وہاں ان کے مطالب و مشمولات کی سماجی، تہذیبی اور تاریخی اہمیت و مناسبت پر روشنی بھی ڈالی۔ ان مقالات پر بحث و مباحثہ بھی ہواجس سے یہ نتیجہ نکلاکہ یہ علمی و ادبی و تاریخی مآخذ خاص طورپر ہمارے قرون وسطی کی زندگی کے ہر پہلو کو روشن کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ہمارے ادب کی گوناگونیت اور اس کا تنوع اور سارے ہندستان میں اس کے رواج و اثرات پربھی گفتگو ہوئی۔ بعض ایسی کتابوں کا بھی اسکالرز نے اپنے مضامین میں ذکرکیاجن میں ہماری سماجی رسموں کا تفصیل سے ذکر ملتا ہے۔ان دو دنوں میں دہلی اور بیرونِ دہلی کے ریسرچ اسکالرز، اساتذہ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے اہم افراد نے شرکت کی اس اہم سمینار میں پاکستانی سفارت خانے کے چنداہم سفارت کاربھی موجود تھے اوردونوں دن اردو فارسی و تاریخ کے علما وفضلاکی عالمانہ گفتگو سے مستفید ہوئے۔ سمینار کا اختتام رضالائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر سید محمد عزیز 
الدین اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرکے اظہار تشکر سے ہوا۔







Saturday, May 24, 2014

غالب انسٹی ٹیوٹ میں فخرالدین علی احمدمیموریل لکچرکاانعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ۲۴ مئی کو ’’ہندستان کی قومی تحریک کی تاریخ پرمختلف نظریات‘‘کے موضوع پرفخرالدین علی احمدمیموریل لکچرمنعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ممتاز مؤرخ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ایمریٹس عرفان حبیب نے فرمایاکہ قومی تحریک ہندستان کی اہم تحریکوں میں سے ایک ہے اور اس تحریک کی اہمیت کوکبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ قومی تحریک کے بارے میں مؤرخوں کے درمیان جو موضوعات ہیں ان پر بحث کی جانی چاہیے، ۱۸۸۵ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی ابتدا کے بعد قومی تحریک کے مخالفین میں کیا تصور تھااوراب قومی تحریک کاکیا نظریہ ہونا چاہیے اس پر خاطر خواہ روشنی ڈالی جانی چاہیے۔آپ نے مزید کہاکہ روشن خیال لوگوں کی نظر میںیہ تحریک اصلاحی تحریک تصور کی جاتی تھی۔ اس ضمن میں آپ نے گاندھی جی اور مختلف مفکرین کے نقطۂ نظر پر بھی مختصراً روشنی ڈالی۔ قومی تحریک کی افادیت کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ تحریک ایک مشن تھی جوسرمایہ داروں کے تصور کی نفی کرتی ہے اور کسانوں اور مزدوروں کو اس کااپناحق دلانے کی تائید کرتی ہے۔ بعض مؤرخوں کے نقطۂ نظر کاحوالہ دیتے ہوئے آپ نے کہاکہ اس تحریک نے دو قومی نظریہ کی بھی نقطہ چینی کی تھی۔ برٹش رول ان انڈیا۱۹۳۴ء میں اربندوگھوش کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہندستان کے لوگوں کااصول تشدد نہیں ہے بلکہ شکتی ہے۔لیکن بدقسمتی سے بعض سخت گیر تنظیموں نے ہندستان کے بجائے ہندوستھان کانعرہ دیا جس نے قومی تحریک کے مشن کونقصان پہنچایا۔پروفیسر عرفان حبیب نے اپنے اختتامی کلمات میں یہ بھی کہاکہ موجودہ دورمیں قومی تحریک کوسمجھنے اور سمجھانے کی بیحد ضرورت ہے۔اگرہم نے قومی تحریک کے اصول و نظریات سے لوگوں کو واقف نہ کرایاتویہ تحریک بھی دم توڑ دے گی۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے افتاحی کلمات میں کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیاں بہت محدود تھیں لیکن اب اس کے موضوعات کو وسیع کیاگیا۔ مختلف نظریات،پہلوؤں اور روایتوں کے موضوعات پرلکچر کرایا جاچکاہے اور کرایا جارہاہے۔ پروفیسر عرفان حبیب کاذکر کرتے ہوئے آپ نے کہاکہ پروفیسر عرفان حبیب کی کی تحریریں، اور تقریریں اتنی اہم ہیں کہ اور ان سے ہندستان اوردیگر ممالک کے اسکالرز استفادہ کرتے ہیں اورآپ اپنے عہد کی تاریخ کو بہت خلوص کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر پرویز علی احمد،وائس چیئرمین،غالب انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ پروفیسر عرفان حبیب کے اس لکچر سے موجودہ صورت حال اور قومی تحریک کو سمجھنے میں ضرورمددملے گی۔پروفیسر عرفان حبیب کی دانشوری کاذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز نے مزید کہاکہ آپ کے اہم لکچرز ملک اوربیرونِ ملک میں بھی بڑے قدر کی نگاہوں سے پڑھے اور سنے جاتے ہیں۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدر نے نظامت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے فخرالدین علی احمد میموریل لکچر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ فخرالدین احمد لکچرغالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کاایک اہم حصہ ہے۔اس موقع پرملک کے اہم دانشوروں اورمؤرخوں نے اپنے خیالات کااظہارکیاہے۔اور آج پروفیسر عرفان حبیب کی موجودگی نے اس لکچر کے وقار میں اضافہ کیاہے۔اس لکچر میں دہلی ہائی کورٹ کے جج اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ٹرسٹی جسٹس بدر دُرریزاحمدکے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ،جواہر لعل نہرو،دلی یونیورسٹی،اوردلی یونیورسٹی کے کالجوں کے اردو ،فارسی اورتاریخ کے اساتذہ،اسکالرز اورطلبا کے علاوہ وکلاء،دہلی ہائی کورٹ کے ججز اور مختلف علوم و فنون کے افراد کثیر تعداد میں موجود تھے۔  
تصویر میں دائیں سے: ڈاکٹر رضاحیدر، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر عرفان حبیب، ڈاکٹر پرویز علی احمد، جسٹس بدر دُرریزاحمد











Wednesday, May 7, 2014

پروفیسرشمس الرحمن فاروقی کا غالب توسیعی خطبہ

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام ۶ مئی کو ’’غالب توسیعی خطبہ‘‘ کے موقع پر ممتازادیب و دانشوراور ماہرِ غالبیات پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے
’’غالب کے غیر متداول دیوان‘‘ کے موضوع پر خطبہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ غالب کا غیر متداول دیوان ایک عرصے سے لوگوں کی توجہ کا اس طرح مرکز نہیں ہے جیسے اُسے ہونا چاہئے۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب نے یہ سوالات بھی اٹھائے کہ غیر متداول دیوان میں جو کلام موجود ہے اور جس کے بارے میں غالب نے یہ لکھاہے کہ انہو ں نے اس کلام کو مسترد کردیاتھاوہ مسترد کلام اصلاً کس کا رد کیاہواہے۔ آپ نے مزید فرمایاکہ یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ غالب نے اپنی عمرکے آخری حصّے میں مشکل گوئی ترک کردی اور میرکا انداز اختیار کرلیایہ بات بھی سراسر غلط ہے کیونکہ غالب کا تمام معروف اور مشہورکلام اُن کے ابتدائی زمانے کا کہاہوا ہے۔اس سے قبل غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے پروفیسر شمس الرحمن فار وقی کااستقبال کرتے ہوئے کہاکہ آپ اس عہدکے بڑے ماہرِ غالبیات میں سے ہیں۔ غالب پر آپ نے جو کچھ تحریر کیااُسے علمی و ادبی حلقوں میں کافی پسند کیاگیا۔ آپ کی کتاب’’تفہیم غالب‘‘ غالب فہمی میں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے یہ بھی فرمایاکہ ’’غالب کے غیر متداول دیوان‘‘ پر آپ کی جوبھی گفتگو ہوئی اُس سے یقیناًغالب تحقیق و تنقید میں ایک اہم اضافہ ہوگا۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے معروف غالب شناس ڈاکٹر خلیق انجم نے پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے عالمانہ خطبے پر انہیں مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ غالب کے غیر متداول دیوان کے تعلق سے اردو اور فارسی کے ادیبوں کے ذہنوں میں شک و شبہات اور غلط فہمیاں ہیں آپ کے اس خطبے کے بعد ختم ہوجائیں گی۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے علمی و ادبی مرتبے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ اردو زبان و ادب خصوصاً غالبیات کے حوالے سے آپ کی کاوشوں کو اردو دنیامیں ہمیشہ عزت و احترام کی نظروں سے دیکھاجائے گا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے جلسے کی نظامت کرتے ہوئے غالب توسیعی خطبہ کی تاریخی حیثیت پرروشنی ڈالا اور کہاکہ غالب توسیعی خطبہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی ایک اہم پہچان ہے ملک اور بیرون ملک کے کئی بڑے ادیبوں نے غالب توسیعی خطبہ پیش کیاہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ پروفیسر شمس الرحمن فاروقی ایک ایسے موضوع پر خطبہ پیش کر رہے ہیں جس پر کم گفتگو ہوئی ہے ہمیں پوری امید ہے کہ آپ کے اس خطبے سے غالب کے غیر متداول کلام کی اہمیت کوبھی ہم سمجھ سکتے ہیں۔ شاہد ماہلی نے پروفیسر شمس الرحمن فاروقی اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے خطبے سے ہمارے علم میں اضافہ ہوااور ادارے کا وقار بھی بڑھا ہے۔اس موقع پر پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کی اہم کتاب’’تفہیم غالب‘‘ کے تیسرے ایڈیشن کی رسمِ رونمائی بھی ہوئی۔ جلسے میں امریکہ کے اہم ڈاکٹر اور اردو کے ادیب جناب سیدامجد حسن بھی موجود تھے جنہیں غالب انسٹی ٹیوٹ کی کتابوں کا تحفہ پیش کیاگیا۔ اس کے علاوہ پروفیسر شمیم حنفی، ڈاکٹر اسلم پرویز، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر شمس الحق عثمانی،ڈاکٹر خالد علوی، ڈاکٹر خالد اشرف، ڈاکٹر اخلاق احمد آہن، پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر عراق رضازیدی، ڈاکٹر اطہر فاروقی، اے رحمان، ڈاکٹر اشفاق عارفی، ڈاکٹر شعیب رضا خاں، ڈاکٹر احمد محفوظ، ڈاکٹر نجمہ رحمانی، ڈاکٹر ارجمند، ڈاکٹر نشاں زیدی، ڈاکٹر جاوید رحمانی، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر سہیل انور، مسعود فاروقی کے علاوہ بڑی تعداد میں 
اہل علم موجود تھے۔

Tuesday, April 1, 2014

کتاب’’انیسویں صدی میں، ادب، تاریخ اور تہذیب‘‘ کا اجرا

۲۸ مارچ کو شام چھے بجے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی ۸۰ ویں سالگرہ کے موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ میں ایک بڑے جلسے کااہتمام کیاگیا۔ اس تاریخی موقع پر پروفیسر صدیق الرحمن قدوای کے اعزاز میں ترتیب دی گئی کتاب’’انیسویں صدی میں، ادب، تاریخ اور تہذیب‘‘ کا اجرا بہاروہریانہ کے سابق گورنر ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی اور سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ شاہد مہدی کے دستِ مبارک سے عمل میںآیا۔ اس کتاب کو ڈاکٹراطہر فاروقی، ڈاکٹر رضاحیدراور ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے ترتیب دیااو رانجمن ترقی اردو ہند نے شائع کیاہے۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اردو کے اُن ممتاز ادیبوں میں ہیں جن کا انیسویں صدی کی تاریخ، تہذیب، روایت اور ادب پر اہم علمی کام ہے۔ ماسٹر رام چندر پر لکھی ہوئی آپ کی کتاب ادبی دنیامیں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہیں تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر کتاب کے مرتبین نے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی ۸۰ویں سالگرہ کے موقع پر اُن کے اعزاز میں ایک ایسی کتاب ترتیب دی ہے جس میں ۲۲بزرگ ادیبوں اور دانشوروں کے مضامین شامل ہیں۔یہ تمام مضامین ۱۹ویں صدی کی تاریخ، ادب اور تہذیب کا پوری طرح سے احاطہ کرتے ہیں۔ جلسے کی ابتدا میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے کتاب کا تعارف پیش کیااور ڈاکٹر سرورالہدی،شاہد مہدی اور پروفیسر مینجر پانڈے نے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی ادبی خدمات پر گفتگو کی۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی ۸۰ویں سالگرہ کے موقع پر انجمن ترقی اردوہند، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، غالب انسٹی ٹیوٹ، دلّی اردو اکادمی ، غالب اکادمی، عالمی اردو ٹرسٹ، ساہتیہ اکادمی، مکتبہ جامعہ، شعبہ اردودلّی یونیورسٹی، شعبہ اردو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ فارسی دلّی یونیورسٹی، شعبہ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ، ذاکر حسین کالج کے علاوہ دلّی کے دیگر علمی و ادبی اداروں کے سربراہوں کی طرف سے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی خدمت میں گلدستہ پیش کیا گیا۔ اس جلسے کی خاص بات یہ تھی کہ دلّی کے سبھی اداروں کے نمائندے موجود تھے اور انہوں نے پروفیر صدیق الرحمن قدوائی کو اظہارِ تہنیت پیش کیا ۔






Monday, March 3, 2014

غالب انسٹی ٹیوٹ میں پروفیسر گوپی چند نارنگ کی کتاب پر مذاکرہ

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہریاراں کے موقع پرممتاز ادیب و دانشور پروفیسر گوپی چند نارنگ کی اہم کتاب ’’غالب ۔معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتااور شعریات‘‘ پر ایک اہم مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے پروفیسر گوپی چند نارنگ کو اُن کی اس تاریخی کتاب پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ نارنگ صاحب نے اس کتاب میں غالبیات کے تعلق سے ہرصفحے میں نئی بات پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے قبل بھی غالبیات پر بے شمار تنقیدیں لکھی گئیں لیکن پروفیسر نارنگ کے اس علمی کام کو تحقیق و تنقید کی دنیامیں ہمیشہ عزت و احترام کی نظروں سے دیکھاجائے گا۔ اس جلسے کے مہمانِ خصوصی کینیڈاکے معروف ادیب و دانشور ڈاکٹر تقی عابدی نے فرمایاکہ یہ کتاب بے پناہ خصوصیات کی حامل ہے اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ہرصفحہ غالب سے مربوط ہے۔ پروفیسر نارنگ نے اس کتاب میں غالب کے سومناتی خیال پر بھی گفتگو کی ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نارنگ صاحب نے اس کتاب میں ۲۱ ابواب قائم کئے ہیں اور اس کا ہر باب فکر انگیز اور معنی خیز ہے۔ ڈاکٹر تقی عابدی نے یہ بھی فرمایاکہ اس کتاب کا فارسی میں بھی ترجمہ ہونا چاہئے تاکہ ایرانی حضرات بھی اس علمی تحفے سے مستفید ہوسکیں۔ ممتاز نقاد پروفیسر عتیق اللہ نے فرمایاکہ پروفیسر نارنگ نے اس کتاب میں اپنی روشن دماغی کا ثبوت دیاہے۔ انہو ں نے غالب کے ہرشعر کو چیلنج کی طرح قبول کیاہے اور اُس کی عالمانہ تعبیر پیش کی ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری ادبی دنیا میں یہ کتاب ایک دستاویز کی حیثیت سے جانی جارہی ہے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی کے پروفیسر علی احمد فاطمی نے فرمایاکہ نارنگ صاحب نے اپنی اس کتاب میں غالب کے اشعار کی نئی توجیحات پیش کی ہے جسے پڑھ کر ہمارا دماغ روشن ہوجاتاہے۔ پروفیسر نارنگ نے شونیتا کے فلسفے کو غالب کی شاعری سے جس طرح مربوط کیاہے اُس سے اس کتاب کی وقعت میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔ اس کتاب کو لکھ کر پروفیسر گوپی چندنارنگ نے اپنا شماراہم غالب شناسوں میں کرالیاہے۔ پروفیسر شافع قدوائی نے فرمایاکہ پروفیسر نارنگ نے اس کتاب میں غالب کو نئے طریقے سے دریافت کیا ہے۔ غالب نے اپنے کلام میں جس نئی شعریات کو وضع کیاآپ نے اس کتاب میں اُس کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ فلسفہ شونیتاپربھی جس عالمانہ طریقے سے آپ نے گفتگو کی ہے اس سے پہلے اردو دنیامیں اس انداز سے کسی نے گفتگو نہیں کی تھی۔ نظام صدیقی نے فرمایاکہ کتاب کے ہرباب میں پروفیسر نارنگ نے غالب کے اشعار کی جس عالمانہ اندازمیں شرح پیش کی ہے اس سے یہ کتاب غالبیات کی دنیامیں سنگِ میل کی حیثیت کی حامل ہوگئی ہے۔ عالمی اردو ٹرسٹ کے چیرمین جناب اے رحمان نے کہاکہ ہماری ادبی دنیامیں غالبیات کے تعلق سے اتنی اہم اور معنی خیز کتاب کم ہی لکھی گئی ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایاکہ پروفیسر نارنگ نے شونیتاکے ساتھ ساتھ جدلیاتی وضع کو مفکرانہ اندازمیں واضح کیاہے۔ ساہتیہ اکادمی کے پروگرام آفیسر ڈاکٹر مشتاق صدر نے فرمایاکہ حالی کی ’’یادگارغالب‘‘ کے بعد اگر کسی کتاب نے ہمارے دل و دماغ کو متاثرکیاہے تو وہ نارنگ صاحب کی موجودہ کتاب ہے۔ یہ کتاب اکیسویں صدی کی اُن شہرہ آفاق کتابوں میں سے ایک ہے جس کاہر صفحہ مصنف کے عالمانہ افکار کی ترجمانی کررہاہے۔نوجوان ناقد ڈاکٹر مولیٰ بخش نے فرمایاکہ پروفیسر نارنگ نے اس کتاب میں ہندستان کی پوری تاریح اور فلسفے کے تناظرمیں غالب کی شاعری کودیکھاہے۔ موجودہ دورمیں اس کتاب کی اس لئے بھی اہمیت ہے کہ جہاں ہر طرف ظلم و تشدد کاماحول گرم ہے وہیں یہ کتاب ہمیں روشنی بھی عطا کررہی ہے۔ ڈاکٹر راشدانورراشد نے کہاکہ پروفیسر نارنگ نے اس کتاب میں غالبیات کے چھپے ہوئے اُن گوشوں پر گفتگو کی ہے جس پر ابھی تک کسی کی نظرنہیں گئی تھی۔جلسے کی نظامت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرنے ابتدامیں کتاب کاتعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس کتاب کاہر صفحہ اور ہر لفظ غالبیات کی ایک نئی بازیافت ہے اس کتاب کا دلچسپ پہلویہ بھی ہے کہ مصنف نے غالب کے اردو اشعار کے ساتھ ساتھ فارسی اشعار پربھی عالمانہ گفتگو کی ہے اور فارسی کے بڑے شعرا فردوسی، رومی اور بیدل کے کلام کے تناظر میں غالب کے کلام کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔اس مذاکرے کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں پروفیسر گوپی چند نارنگ خود موجود تھے اور انہوں نے اس مذاکرے کے لئے غالب انسٹی ٹیوٹ کاشکریہ اداکرتے ہوئے فرمایاکہ یہ مجھ پر ایک قرض تھاجومیں نے اداکردیا۔ اس لئے کہ غالب کو سمجھنا آسان نہیں ہے، غالب پر لکھتے ہوئے میں ہمیشہ ڈرتاہوں کہ ممکن ہے حق ادا نہ ہوسکے۔ آپ نے یہ بھی کہاکہ غالب پرسب سے زیادہ لکھاگیااور سب سے کم غالب کوسمجھا گیا۔ غالب کی شاعری کو پڑھ کر ہندستان کی تہذیب و تاریخ کا علم ہوتاہے کیونکہ غالب کے کلام کی جڑیں اس ملک کے تمام مذاہب کی جڑوں سے ملی ہوئی تھیں۔ غالب کی شاعری شعریت سے بھرپور ہے جس کو حالی نے بھی نیرنگیِ نظر کہاہے۔ مجلس فروغ اردو ادب دوحہ، قطر کے چیرمین محمد عتیق نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کااظہار کیا۔ جناب شاہد ماہلی نے تمام سامعین اور مقررین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نارنگ صاحب کو اُن کی معرکۃ الآرا کتاب پر مبارک باد پیش کی۔ چار گھنٹے تک چلنے والے اس تاریخی مذاکرے میں دلی اردو اکادمی کے سکریٹری انیس اعظی، محمد شمیم، ڈاکٹر سرورالہدیٰ، ڈاکٹر ابوظہیر ربّانی، ڈاکٹر سہیل انور، ڈاکٹر ادریس احمد، اقبال مسعودفاروقی، محسن شمسی کے علاوہ بڑی تعداد میں اہل علم موجود تھے۔