Contact Numbers: 9818050974(Dr. Raza Haider), 9911091757 (Dr. Idris Ahmad), 9891535035 (Abdul Taufique) -- ghalibinstitute@gmail.com

Tuesday, November 8, 2016

Monday, October 31, 2016

سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار


قومی کونسل برائے فروغ انسانی وسائل وغالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار 

قومی کونسل برائے فروغ انسانی وسائل وغالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام منعقد سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرزسمینارکے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبے میں معتبروممتاز ناقدومحقق اورہندوستان میں جدیدیت کے بانی پروفیسرشمس الرحمان فاروقی نے غالب آڈیٹوریم میں کہا کہ آج کی تحقیق یا تحقیق کے نام پرجوکچھ ہورہا ہے۔اس سے میں مطمئن نہیں ہوں ۔تحقیق کرتے ہوئے یہ پیش نظررکھنا چاہیے کہ اپنے موضوع کے اعتبارسے نئی تعبیرات کاہم انکشاف کریں ۔ہماری ادبی تاریخ میں بہت سے محققین ہیں ،جنہوں نے ادبی نتائج کواپنے معتقدات کے مطابق ہونے کی وجہ سے قبول کرلیا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ جونتائج اورفیصلے پہلے سے موجود ہیں ،ان پرآنکھ بندکرکے یقین نہیں کرنا چاہیے ۔کوئی روایت چاہے جنتی مصدق ہومگراپنی تحقیق کے بغیراسے قبول نہیں کرنا چاہیے ۔تحقیق کی موجودہ صورت حال دروں بینی اورخود احتسابی کی دعوت دیتی ہے،جس کا پاس ولحاظ رکھنا اشد ضروری ہے۔افتتاحی اجلاس کی صدارتی تقریر میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلرسیدشاہدمہدی نے کہ اکہ ریسرچ اسکالرز کی شرح نمو ہندوستانی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے ۔یہ صورت حال صرف اردوتک محدود ومسدود نہیں ہے۔بہت سے شعبوں کی صورت حال اردو سے زیادہ خراب ہے۔اردوتحقیق کوایک مخصوص دائرے سے باہرلانے کی ضرورت ہے ۔تاکہ تازہ ہواآسکے۔فارسی زبان وادب کے ماہرپروفیسرسید طلحہ رضوی برق چشتی داناپوری نے کہاکہ ریسرچ اسکالرزکوبھی معلوم نہیں ہوتا کہ تھیسس میں لکھا ہواکیا ہے ۔ریسرچ اسکالرز کوچاہیے کہ جوچیزیں آنکھوں سے پوشیدہ ہیں ،انہیں سامنے لائیں ۔اچھی اردوکے لیے فارسی کاجاننا ضروری ہے۔طلبہ وطالبات کے شایان شان جو مدد نہ ہووہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کربھی نہ دیکھیں ۔اپنی تہذیب کی بقاکے لیے زبان کی بقا کویقینی بنانا ہوگااورزبان کی بقا کے لیے جدوجہداورمحنت کی ضرورت ہے ۔موجودہ صورت حال کے پیش نظراحتساب بھی ضروری ہے اوراحتساب ریسرچ اسکالرز تک محدود نہیں ہونا چاہیے ۔اس سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینارمیں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسرطلعت احمد نے کہا کہ یہ سمینارطلبہ وطالبات کے لیے ہی ہے۔دوسرے شعبوں کے لوگوں کومدعوکرنااچھی پیش رفت ہے ۔باہرکی دنیا میں جدیدچیزیں طلبہ کو ہی ازبرہوتی ہیں اوروہی صدارت کرتے ہیں ۔آج کے زمانے میں ریسرچ کرنا پہلے کی بہ نسبت زیادہ آسان ہے ۔آج آپ کے پاس گلوبل دنیا تک رسائی بہت آسان ہے۔نیٹ نے دشواریوں کو ختم کردیا ہے۔انہوں نے اس موقع پر زود نویسی کی ممانعت بھی بیان کی اورکہاکہ کم لکھیں مگر اچھا لکھیں ۔اچھا استاذ وہ ہوتا ہے ،جو خود سے اچھا شاگرد پیداکرے ۔اس موقع پراپنے تعارفی کلمات میں قومی کونسل برائے فروغ انسانی وسائل کے متحرک وفعال ڈائرکٹر پروفیسرارتضی کریم نے کہاکہ ادب وتحقیق اورتنقید عبادت کا درجہ رکھتی ہیں ۔ہمارے اساتذہ نے خود کو فنافی الادب کیا تب کہیں انہیں یہ مقام ومرتبہ حاصل ہوسکا۔یہ راہیں تسلسل چاہتی ہیں ۔ریسرچ اسکالرز کو باندھ کرنہیں رکھنا چاہیے انہیں یہ آزادی دینی چاہیے کہ وہ جس سے چاہیں استفادہ کریں ۔انہوں نے پرجوش طریقے پرریسرچ اسکالرز کا اس سمینار میں خیرمقدم اوراستقبال کیااورکہاکہ قومی کونسل نے ریسرچ اسکالرز کو گود لے لیا ہے ۔تاکہ وہ بہترسے بہتر کام کرسکیں ۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسرصدیق الرحمن قدوائی نے استقبالیہ تقریرکرتے ہوئے تمام مہمانوں اورریسرچ اسکالرز کا خیرمقدم کیااوراعلی تعلیم کی طرف کم ہوتے رجحان کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی ۔انہوں نے کہاکہ ہم سب کو آپ لوگوں سے ہی امیدیں وابستہ ہیں۔معاصرادب ،تحقیق اورتنقید کی تاریخ آپ کوہی رقم کرنی ہے۔اس لیے اپنے فرض منصبی کی ادائیگی کے لیے آپ سب کو متحرک وفعال ہونا ہی ہوگااوریہی وقت کا جبری تقاضہ بھی ہے ۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدرنے افتتاحی اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں ریسرچ اسکالرز کی تمام سمیناروں میں سب سے زیادہ ضرورت ہے اس لیے کہ ہم نے اگر ریسرچ اسکالرز کی حوصلہ افزائی نہیں کی تو ہم اردو وفارسی زبان و ادب کے ساتھ انصاف نہیں کرسکیں گے۔آپ نے مزید کہاکہ ریسرچ اسکالرز سمینارکی مقبولیت کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سال چالیس سے زیادہ یونیورسٹیوں کے ریسرچ اسکالرز اس سمینار میں مقالہ پیش کر رہے ہیں۔اس سمینارمیں دلچسپیوں کاتذکرہ کیااوراپنی خوشی کا اظہاربھی کیا اوراس سمینارکی تیاریوں میں آنے والی دشواریوں کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے اساتذہ سے مزید تعاون کی درخواست کی ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ٹیگورپروجیکٹ کے کامیاب اختتام کے بعد اس کے ذمہ داران نے گیارہ سو کتابیں مجھ تک پہنچائی ہیں ۔جنہیں میں سمینارکے آخری دن ریسرچ اسکالرز کو پیش کروں گا۔اس افتتاحی اجلاس کے دوران چارکتابوں کو اجرابھی مہمانوں کے دست مبارک سے ہوا۔خیال رہے کہ یہ تمام کتابیں ریسرچ اسکالرز کی تصانیف ہیں ۔جن میں افسانے کی شعریات ،رضی شہاب،شیریں کتھا،ضیاء اللہ انور،علامہ ،صالحہ صدیقی اورراحین شمع کے ترجمے کی رسم اجراہوئی۔اس موقع پرممتاز محقق وناقد شمس الرحمان فاروقی سمیت تمام مہمانوں نے مصنفین کو مبارک باد دی ۔سمینارکے پہلے اجلاس کی کی صدارت کرتے ہوئے جے این یو کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے چیئرپرسن پروفیسرانورپاشا نے کہاکہ زوال ہرجگہ نمایاں ہے،بیوروکریٹس کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ۔انہیں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔زبان ،تہذیب ،تمدن ،تشخص اورثقافت کاتحفظ ناگزیر ہے۔اپنی نوجوان نسل سے توقعات وابستہ کرنا فطری امر ہے۔نوجوان نسل کے کاندھے جتنے مضبوط ہوں گے،ادب،زبان اورتہذیب اتنی ہی مستحکم ہوں گی ۔کامیاب سمینارکے انعقادکے لیے میں ڈائرکٹر اورغالب انسٹی ٹیوٹ کو مبارک باد پیش کرتاہوں ۔پہلے اجلاس کی مجلس صدارت کے دوسرے رکن پروفیسرقاسم فریدی نے کہاکہ اس سمینارمیں آنے سے قبل شعبے میں اپنے اساتذہ سے استفادہ ضرور کرنا چاہیے ۔تاکہ یہاں کسی طرح کی خامی اورغلطی کا امکان باقی نہ رہے ۔پہلے اجلاس میں نورین علی حق نے نظامت کی اورمحمد عالم گیرانصاری،نرگس بیگم ،فہیم اشرف ،سرفراز خان،محمدشہاب الدین ،رضوانہ عارف ،ثنافاطمہ اورفرحین انجم نے مختلف موضوعات پراپنے اپنے مقالے پیش کیے ۔دوسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹراسلم جمشیدپوری،ڈاکٹراخلاق آہن اورصالحہ رشید نے کی اس اجلاس میں عالیہ خان نے نظامت کی اور محمد عابدکریم،احمدذکی،محمدفراز ،نصرت امین اورانصاراحمد نے مقالات پیش کیے ۔


سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینارکے دوسرے دن کے پہلے اجلاس کی صدرات کرتے ہوئے فارسی کے معروف اسکالروسابق صدرشعبۂ فارسی ،دہلی یونیورسٹی پروفیسرشریف حسین قاسمی نے کہاکہ سمینارکے آداب بجالانا ناگزیرہے۔اس سے صدورکی اہمیت یاوقارمیں اضافہ نہیں ہوگا لیکن آپ کو آداب معلوم ہوں گے ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگراردوقصائدکاموازنہ عربی قصائد سے ہوگاتوفارسی کے توسط سے ہوگا۔اردوکے قصیدہ گوشعرافارسی کے شعراسے متاثرتھے۔نہ کہ عربی کے شعراسے ۔انہوں نے آخر میں تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد پیش کی ۔اس موقع پراپنی صدارتی گفتگو کرتے ہوئے ڈؑ اکٹرشعیب رضاخان وارثی نے کہاکہ سمیناروں میں متعدداجلاس ہوتے ہیں ۔اس لیے وقت کی پابندی ضروری ہے۔اسکالرز کو چاہیے کہ وہ سیشن شروع ہونے سے قبل ہال میں داخل ہوجائیں ۔انہوں نے طلبہ وطالبات کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اساتذہ کے ایک ایک عمل پران کے طلبہ وطالبات کی نظر ہوتی ہے۔اس لیے اساتذہ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ۔طلبہ وطالبات والدین سے زیادہ اساتذہ کو لائق عمل سمجھتے ہیں ۔اس سیشن کے ایک اورصدرڈاکٹراطہرفاروقی نے پروفیسرشمس الرحمن فاروقی کی اس سمینار میں موجودگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جس سمینار میں اجلاس میں شمس الرحمان فاروقی صاحب موجود ہوں ،وہ تاریخی حیثیت کاسمینار ہوجا تاہے ۔مجھے انہیں دیکھ کرخوشی ہورہی ہے اورطلبہ کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی مل رہا ہے ۔خیال رہے کہ دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں ندامعید،ظہیرحیدرنقوی ،یاسمین بانو،محمدیوسف ،صدف حنیف،سعدیہ جعفری،عذراشکیل،پردیپ خسرونے مختلف عناوین پراپنے اپنے مقالات پیش کیے۔اس سیشن کی نظامت جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ریسرچ اسکالرغزالہ فاطمہ نے کی ۔بین الاقوامی سمینارکے دوسرے دن کے دوسرے سیشن کی صدارت کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدرپروفیسرخالدمحمودنے تمام مقالہ نگاروں کے مقالات پرفرداًفرداًتبصرہ کیا اورتمام ریسرچ اسکالرز کی حوصلہ افزائیوں کے ساتھ ہی ان کی اصلاح بھی کی۔اس موقع پر انہوں نے کہاکہ عام طورپردیکھاجاتا ہے کہ ریسرچ اسکالرز ثانوی اورتیسرے درجے کے مآخذسے مددلیتے ہیں اوراصل متن کے مطالعے کو یقینی نہیں بناتے یہ عمل نہ صرف قابل صدافسوس ہے بلکہ ریسرچ اسکالرز کا اس سے کافی خسارہ بھی ہے۔اس عمل میں مثبت اورمستحکم تبدیلی کی اشد ضرورت ہے ۔ناول ،افسانہ اورشعری اصناف کے اصل متن تک جب تک رسائی نہیں ہوگی ۔ہم بے معنی باتیں کرتے رہیں گے ۔اسی سیشن کے دوسرے صدرپروفیسرمظہرمہدی ،جواہرلعل نہرویونیورسٹی نے کہاکہ علاقائی حدبندی کامقصدعلاقائی عصبیت کا فروغ نہیں ہے۔البتہ اگر علاقائی حدبندیوں کے باجودان علاقوں کے فن پاروں میں گہرے معانی کی تلاش ممکن نہ ہوسکے تویہ بہترنتیجہ نہیں ہوگا۔سوالات قائم ہونے چاہئیں ۔یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس علاقے کی ہم حدبندی کررہے ہیں وہاں کے مصنفوں کی خصوصیات کیا ہیں ۔اس سیشن کی نظامت بحسن وخوبی سیدعینین علی حق نے کی ۔اس اجلاس میں صائمہ منظور،ترنم جنین،وصی الدین شیخ ،ایرانی اسکالرزینب محمودیان دارابی ،محمدعرفان،ضیاء اللہ انورنے اپنے مقالے پیش کیے۔سمینارکے دوسرے دن کے تیسرے سیشن میں دہلی یونیورسٹی کے صدرشعبۂ اردو پروفیسرابن کنول نے اپنی صدارتی تقریرمیں کہاکہ کوئی شعبہ ایسانہیں ہے ،جہاں زوال ہی زوال ہویاعروج ہی عروج ہو،ہرجگہ عروج وزوال کا دور دورہ ہے ۔کسی زمانے میں تمام کے تمام ریسرچ اسکالرزیاتمام شعرایاتمام ادبا مشہورومعروف اورمعتبرومعتمد نہیں ہوئے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اچھے اوربہتراسکالرکی شناخت کرنی ہے ۔یہ سمیناراس کام کے لیے ہی منعقد کیا جاتا ہے تاکہ ریسرچ اسکالرز اپنی کاوشیں یہاں پیش کریں اوراساتذہ ان کی اصلاح کریں ۔اس سیشن کے دوسرے صدرجواہرلعل نہرویونیورسٹی کے استاذ پروفیسرمعین الدین جینابڑے نے فردافرداتمام مقالہ نگاروں کے مقالوں پربھرپورتبصرہ کیا اوراپنی گفتگوسے ریسرچ اسکالرز کو بات کہنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔انہوں نے کہاکہ میں نے خاص طورپریہ محسوس کیاکہ اس سیشن کے تمام ہی مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے کو بروقت ختم کیا اوریہ عمل اچھا عندیہ ہے کہ آپ پابندی وقت کے قائل ہیں ۔ایک اسکالر کو پابندئ وقت کا قائل ہونا بھی چاہیے ۔اس سے بہتر سے بہتر کام ہم کرسکتے ہیں ۔سیشن کے تیسرے صدرڈاکٹرصفدرامام قادری نے کہاکہ مقالات پربہت سی باتیں کہی جاسکتی ہیں ۔مگر وقت کی قلت دامن گیر ہے ۔انہوں نے بلاترددتمام مقالہ نگاروں کی خامیاں بھی گنوائیں ۔اس سیشن کی نظامت جامعہ کی ریسرچ اسکالرصالحہ صدیقی نے کی ۔اس سیشن میں مصطفی علاء الدین محمدعلی،شاہ نواز احمد،راہین شمع،محمدمعروف،تمناشاہین،رزینہ خان اورسفینہ نے اپنے مقالات پیش کیے۔دوسرے دن کے چوتھے اورآخری سیشن کی صدارت الہ آبادیونیورسٹی کے شعبہ فارسی کے استاذپروفیسرعبدالقادرجعفری ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق استاذ پروفیسرعراق رضازیدی اورپروفیسرقدوس جاوید نے کی ۔اس سیشن کی نظامت رئیس فاطمہ نے کی اوراس سیشن میں سیدتصورمہدی،ناہیدزہرا،تحسین سلطانہ ،عبیداللہ ہارون ،مسرورفیضی اور توصیف خان نے اپنے مقالات پیش کیے۔سمینار کے دوسرے دن کے تمام اجلاس کی خاص بات یہ رہی کہ بڑی تعداد میں مختلف شہروں سے آئے ہوئے ریسرچ اسکالرز کے ساتھ ساتھ اساتذہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔اور اس بات پر زور دیاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان سمیناروں کے ذریعہ ریسرچ اسکالرز کو علمی طورپر بھرپور مدد دیں تاکہ ریسرچ کا معیار بلند رہے۔
سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینارکے تیسرے اور آخری دنکے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز ناقد ومحقق اوراردومیں جدیدیت کے بانی پروفیسرشمس الرحمان فاروقی نے کہاکہ کچھ رائج الفاظ کا دامن تھام لینے سے زبان کی وسعت سمٹ رہی ہے ۔بتدریج زبان اپناتلفظ خوداختیارکرتی ہے۔لہجوں کی اہمیت مسلم ہے۔لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں خطے کالہجہ ہی اہم ہے۔تلفظ کی تشکیل میں ذرا وقت لگتا ہے ۔زبان اپنے تلفظ کوخود قائم کرلیتی ہے۔ہردن کے مقالات پرتاثردینے کے لیے ایک ریسرچ اسکالر کاانتخاب ضرور کرنا چاہیے ۔تبادلہ خیالات زیادہ سے زیادہ ہونا چاہئے۔انہوں نے سمینارپرمجموعی تاثرپیش کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ ناول نگاری کی پہلی شرط یہ ہے کہ حقائق کوتصورمیں ڈھالا جائے ۔لکھنے سے پہلے غوروفکر سے کام لیا جائے ۔سوالات قائم کیے جائیں ۔اختتامی اجلاس کی اپنی صدارتی تقریرمیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری صدیق الرحمان قدوئی نے کہاکہ اردومیں تنوع اوررنگارنگی ہے ۔واحد وجمع کے قواعد بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔بہت کچھ چند برسوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔میں جاننا چاہتا ہوں کہ آخراردوزبان اوراس کے معیارکا پیمانہ کیا ہے۔زبان ،علاقائیت ،ادائیگی ،لہجے اورمختلف قواعد وضوابط میں اختلافات جاری رہتے ہیں ۔انہوں نے اس موقع پر ریسرچ اسکالروں کے مقالوں پراظہارخیال کرتے ہوئے اطمینان کا بھی اظہارکیا۔قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے ڈائرکٹرپروفیسرارتضی کریم نے شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی محنتوں کانتیجہ ہے یہ سمیناراوراراکین غالب انسٹی ٹیوٹ نے بڑی جانفشانیوں سے کام کیا ہے ۔انہوں نے ریسرچ اسکالرز کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہاکہ آپ کل فخر کریں گے کہ آپ نے اپنا پہلا مقالہ فاروقی صاحب کے سامنے پیش کیاتھاچوں کہ فاروقی بننے کے لیے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ نہیں جاننا بہت بڑی خرابی نہیں ہے ۔لیکن نہ جاننے کے باوجود اصرارکرنا بری بات ہے ۔ریسرچ اسکالروں کے ہاتھوں میں اردوکے مستقبل کی باگ ڈور ہے انہیں اس بات کاہمیشہ خیال رکھنا ہوگا۔اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردوکے صدرپروفیسر شہپررسول نے کہاکہ ہندوستان کے مختلف خطوں سے اسکالرز آئے حتی کہ بیرون ممالک کے ریسرچ اسکالروں نے بھی مقالات پیش کیے ۔پوری دنیا زوال کاشکار ہے ۔جامعات بھی اس سے بالاترنہیں ہیں۔اس لیے صرف ریسرچ اسکالروں کا ماتم کرنا مناسب نہیں ہے ۔اس اختتامی اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کی ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدرنے کہاکہ ہندوستان کی تقریبا چالیس یونورسٹیز کے ریسرچ اسکالروں نے یہاں شرکت کی ۔ان تین دنوں میں تقریبا ۶۰مقالات پیش کیے گئے اورتمام اجلاسوں کے صدورکامجموعی تاثر اچھا رہا ہے اس لیے ہم اپنی محنتوں سے خوش ہیں اور اپنے ریسرچ اسکالروں سے پرامید ہوں کہ وہ آئندہ مزید بہتر نتائج پیش کریں گے۔خیال رہے کہ اس موقع پر تمام مقالہ نگاروں اور شرکاکوکتابوں کا تحفہ پیش کیا گیا ۔اس سے قبل تیسرے دن کے پہلے سیشن میں صدارتی گفتگو کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاذپروفیسراحمدمحفوظ نے کہاکہ زبان کے اصول وضوابط اورقواعداپنی جگہ مسلم لیکن روزمرہ کے استعمالات اوررائج طریقہ اظہارسے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہے۔اس موقع پرانہوں نے ریسرچ اسکالر ز کی حوصلہ افزائی کی ،مبارک باد پیش کی اوریہ بھی کہاکہ شاعری پرکام کرنے والوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ اشعار بے وزن نہ ہونے پائیں۔پہلے سیشن کے دوسرے صدراوردہلی یونیورسٹی کے شعبہ فارسی کے استاذ پروفیسرعلیم اشرف نے کہاکہ قومی سمینارہوں یا بین الاقوامی سمینار ہرجگہ اسکالرز کو بہت ہی کم وقت اظہارمافی الضمیرکے لیے ملتا ہے۔کئی مقالہ نگارو قت کی قلت کی وجہ سے اپنی بات نہ کہہ سکے۔بالخصوص ریسرچ اسکالروں کے لیے وقت کا اضافہ کرنا چاہیے چوں کہ یہی ہمارا مستقبل ہیں ۔تاکہ ہمیں بھی اپنے مستقبل کو سننے اورسمجھنے کا موقع ملے ۔اس سیشن کی نظامت فرمان چودھری نے کی ۔جب کہ تاضی اسدوصی ،سیدہ خاتون ،نائلہ اختر،صفی محمدنائک ،عالیہ خان،رخسارپروین ،تحسین بانو نے مقالات پیش کیے ۔دوسرے سیشن کی صدارتی کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کے شعبہ فارسی کے استاذ پروفیسرچندرشیکھرنے کہاکہ اس سیشن کے تمام مقالے اچھے تھے۔سب سے بڑی بات یہ تھی کہ مقالات کے موضوعات میں تنوع اوررنگارنگی تھی ۔انہوں نے اس موقع پر اردوکی ڈجیٹل دنیا کے حوالے سے بھی کافی پرمغز باتیں کیں۔اس سیشن کے دوسرے صدرجے این یو کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے استاذ پروفیسرخواجہ اکرام نے کہاکہ ان پیج کی آمد نے جہاں اردو دنیا کو کافی فائدہ پہنچایا وہیں اس نے اردو کو پچیس برس پیچھے بھی کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ حوصلہ افزائی کی قلت ہمارے یہاں بہت زیادہ ہے ۔عام طورپر ہم اپنے اسکالرز کی حوصلہ شکنی کے عادی ہیں ۔جب کہ اقلیت کو اکثریت پرمحمول نہیں کرنا چاہیے ۔انہوں نے تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد دیتے ہوئے مقالوں کے نقائص اوران کی خامیوں کی نشاندہی بھی کی۔خیال رہے کہ دوسرے سیشن میں ضیاء اللہ انورنے نظامت کی اورعبدالرزاق ،انجمن النسا،غزالہ صدیقی ،امان اللہ ،نرجس فاطمہ،نورین علی حق ،سریتاچوہان اورشاداب شمیم نے اپنے مقالات پیش کیے ۔سمینارکے آخری دن کے تیسرے سیشن کی صدارت ادے پوریونیورسٹی کے استاذ پروفیسرفاروق بخشی اورفاروق ارگلی نے کی ۔اس سیشن کی نظامت تسنیم بانونے کی اورولی اللہ قادری ،محمدارشد،نصرت جہاں،شفقت حسین بھٹ ،علی عباس ،سلمی رفیق اوررضی شہاب نے اپنے مقالات پیش ۔سمینا رمیں بڑی تعداد میں اساتذہ،ریسرچ اسکالرز، ایم اے کے طلبہ و طالبات کے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور گفتگو میں حصہ لیا۔

Friday, October 21, 2016

Friday, September 30, 2016

Izhare Taziyat

پروفیسرعبدالودوداظہر کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری اور ڈائرکٹر کااظہار تعزیت 

فارسی کے نامور ادیب و دانشور پروفیسر عبدالودود اظہر کے انتقال پرغالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے تعزیتی پیغام میں یہ کہا کہ پروفیسرعبدالودود اظہر کے انتقال سے فارسی دنیا کوزبردست نقصان ہوا ہے۔ آپ فارسی کے ایک بڑے عالم کی حیثیت سے نہ صرف ہندستان میں بلکہ سینٹرل ایشیا اور ایران میں بھی پہچانے جاتے تھے۔ آپ متعدد کتابوں کے مصنف تھے اور آپ کی تحریروں کوفارسی دنیا میں نہایت عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ پروفیسر عبدالودود اظہر ایک طویل عرصے تک جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی سے وابستہ رہے اور آپ کی نگرانی میں شعبۂ فارسی میں متعدد علمی تحقیقی امور انجام پائے۔ آپ کے بے شمار شاگرداس وقت ملک کی اہم جامعات میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ موت برحق ہے اور ہر شخص کو اس دارفانی سے کوچ کرنا ہے لیکن پروفیسر عبدالودود اظہر کاہمارے درمیان سے اٹھ جانا ہمارے لیے کسی بڑے المیہ سے کم نہیں۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرنے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں گہرے رنجم و غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ پروفیسر عبدالودود اظہر غالب انسٹی ٹیوٹ سے طویل عرصے تک وابستہ رہے آپ نے یہاں منعقد ہونے والے کئی سمیناروں میں بہ حیثیت صدورکے شرکت کی اور مقالات پیش کیے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس ادارے نے اپنے اہم فارسی انعام ’’فخرالدین علی احمد غالب انعام برائے فارسی تحقیق و تنقید‘‘ سے بھی آپ کوسرفراز کیا۔یہ ادارہ پروفیسر عبدالودود اظہر کی خدمات کو ہمیشہ یاد کرے گا۔ خداکریم اُن کی غریق رحمت کرے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔)

Friday, September 2, 2016

ڈاکٹراسلم جمشید پوری کے افسانوی مجموعے’’عید گاہ سے واپسی‘‘پر مذاکرہ

غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام یکم ستمبرشام میں شعبۂ اردو ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،
میرٹھ کے صدر اور نئی نسل کے معروف افسانہ نگارو ناقد ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری کے افسانوں کامجموعہ ’’عید گاہ سے واپسی ‘‘کے دوسرے ایڈیشن پر ایوانِ غالب میں ایک شاندار مذاکرہ کا اہتمام کیا گیاجس کی صدارت عہد حاضر کے معروف شاعرپروفیسرشہپر رسول (صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی )نے فرمائی۔جب کہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروف افسانہ نگار جناب رتن سنگھ اور مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے پروفیسر ارتضیٰ کریم (ڈائریکٹر،قومی کونسل برائے فروغ اردو، زبان،نئی دہلی)نے شرکت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر رضا حیدر(ڈائریکٹر،غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی) نے انجام دیے،نظامت محترم معین شاداب اور شکریے کی رسم ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ادا کی۔
اپنے استقبالیہ کلمات میں پروگرام کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر رضا حیدر نے کہا کہ شام شہرِ یاراں غالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں میں ایک اہم ادبی پروگرام ہے ،اس کی مقبولیت ہندوستان ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر ہو گئی ہے۔اس میں ہونے والے مذاکرے اب عوامی دلچسپی کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔آج اسلم جمشید پوری کے تازہ افسانوی مجموعے ’’ عید گاہ سے واپسی‘‘ پر مذاکرہ کر رہے ہیں۔اسلم جمشید پوری نئی نسل کے منفردافسانہ نگار ہیں۔ان کے افسانے روایت کی توسیع بھی ہیں اور اردو افسانے کا نیا منظر نامہ بھی۔ 
مہمانِ خصوصی معروف افسانہ نگار رتن سنگھ نے کہا کہ آج نئی نسل کہاں ہے؟ افسانوں کی محفل میں مجھے نئے لکھنے والوں کی تلاش ہوتی ہے۔ نگار عظیم ، ا سلم جمشید پوری کے بعد کی نسل کہاں ہے۔ ایک زمانہ تھا جب افسانے کے لئے ہم نوجوانوں میں جنون ہوتا تھا۔میں ریڈیو اسٹیشن میں ڈائریکٹر کے عہدے تک صرف افسانہ نگاری نے ہی پہنچایا۔
اسلم جمشید پوری کی کہانیاں ہمارے آس پاس کی کہانیاں ہیں جو ہمیں متاثر کرتی ہیں ۔ان کو میں دو سال بعد مبارکباد دوں گا جب ان کا اگلا مجموعہ منظر عام پر آئے گا۔
مہمان ذی وقار پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اسلم جمشید پوری کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ مذاکرہ معروف فکشن نگار کی موجودگی میں تاریخی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ اسلم نے کئی اچھے افسانے لکھے ہیں،لیکن ابھی انہوں نے وہ کہانی نہیں لکھی ہے جس کے لیے خدا نے انہیں افسانہ نگاری عطا کی ہے۔
صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پرو فیسر شہپر رسول نے کہا کہ اسلم جمشید پوری کی افسانہ نگاری، ’’افق کی مسکراہٹ‘‘ سے’’ عید گاہ سے واپسی‘‘ تک فنی پختگی کا سفر ہے۔یوں تو مجمو عے کی کئی کہانیوں پر گفتگو ہونی چاہئے، لیکن میں خاص کر عید گاہ سے واپسی کی بات کی جائے تو اس میں شک نہیں کہ اسلم نے آج کے منظر میں ایک شاندار افسانہ قلم بند کیا ہے۔میرا خیال ہے کہ اس افسانے پر خاصی بحث ہو چکی ہے،پھر بھی بحث کے مزید امکانات ہیں ۔دراصل یہ متن کی توسیع نہیں ہے بلکہ کردار اور مناظر کی تو سیع ہے۔ 
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر نگار عظیم نے کہا کہ اسلم جمشید پوری کی کہانیاں حقیقی کہانیاں ہیں۔ یہ روزمرہ کے فسانے ہیں۔ان کی کہانیاں ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔یہ کبھی ہنساتی ہیں،تو کبھی رلاتی ہیں۔کبھی ہمیں غم و اندوہ میں ڈبوتی ہیں تو کبھی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ کا سبب بنتی ہیں۔انہوں نے اسلم جمشید پوری کے کئی افسانوں بدلتا ہے رنگ آسماں، پانی اور پیاس،عید گاہ سے واپسی وغیر ہ پر بھر پور تجزیہ کیا ۔ اور اپنے موضوع پر لکھی گئی بہترین کہانیاں قرار دیا۔عید گاہ سے واپسی ،ترقی پسندی کے مینو فیسٹو کی توسیع ہے۔
معروف افسانہ نگار ابرار مجیب نے کہا کہ اسلم جمشیدپوری۱۹۸۰ میں ابھرنے والے افسانہ نگاروں میں ایک خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔ اسلم جمشید پوری نے اردو فکشن کی تشکیک آلود فضا میں اپنی راہ خود متعین کی اور اردو کے صالح افسانوی ادب سے اپنا رشتہ استوار کیا، یعنی ایک طرف حقیقت پسندی کی اہمیت کو سمجھا اوردوسری طرف فکشن میں شفاف بیانیہ کی ضرورت کا ادراک کیا۔اسلم جمشید پوری کے افسانوں میں الجھاؤ ہے نہ وہ معروضی معلومات کی وضاحت کرتے ہیں۔ زندگی کی رنگا رنگی کو اصل شکل میں دکھانا ان کی خاصیت ہے۔ 
انجم عثمانی نے کہا کہ عید گاہ سے واپسی، میں کچھ اچھے افسانے ہیں،کچھ بہت اچھے اور کچھ غیر معمولی افسانے ہیں۔ہر افسانے پر خاصی طویل گفتگو ہو سکتی ہے۔وہ ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جو جوہری بھی ہے اور جوہر بناتا بھی ہے۔ان کے افسانوں کے کئی کردار حامد، جفرو،شادمانی بیگم ،لینڈرا شبراتی یاد رہ جانے والے کردار ہیں ۔
پروفیسر کو ثر مظہری نے اپنے منفرد اندز میں کہا کہ اسلم جمشید پوری اب افسانہ نگاری کی باریکیوں سے نہ صرف واقف ہو گئے ہیں بلکہ ان کا بہتر استعمال بھی کرنے لگے ہیں۔ان کے اندر بھر پور ارتقائی عناصر موجوود ہیں۔اس سے قبل بھی انہوں نے لینڈرا اور دیگر بہتر کہانیاں تحریر کی ہیں۔ عید گاہ سے واپسی reconstruction کی کہا نی نہیں ہے بلکہ پریم چند کی توسیع ہے۔ بڑے قلم کار کی تخلیق کی توسیع آسان نہیں۔یہ وقت طے کرے گا یا اسلم خود بتائیں کہ کیا وہ اس سے مطمئن ہیں۔اسلم جمشید پوری سے توقع ہے کہ وہ مزید بہتر افسانے اردو کو دیں گے۔
ڈاکٹر ابو بکر عباد،ڈاکٹر آصف علی اور ڈا کٹر شاداب علیم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس مو قع پر مہمانان کو مو منٹو پیش کیے گئے۔
پروگرام میں، نصرت ظہیر ،عذرا نقوی ،ڈاکٹر عابد زیدی، ڈا کٹر نشا زیدی،ڈاکٹر علا ء الدین خاں، ڈا کٹر نعیم صدیقی، ڈا کٹر شاہد حسنین، ڈا کٹرہاشم رضا، ڈا کٹر آمرین،ڈاکٹر اسلم قاسمی ،قاضی عقیل احمد، آفاق خاں، محمد ریاض عادل،علی شیر سیفی،سید سبطِ حسن ،محمدمنتظر علیگ، عزنما پروین ،امجد خان ، شہلا نواب ،ذیشان احمد، نوازش مہدی، علیم اختر، سلمان عبد الصمد ،محمد تابش،ظہیر انور، سمیع خان،ارقم شجاع، اکرام بالیان، مختار صدیقی،محمد آصف، سائرہ اسلم، مدیحہ اسلم، شنا ور اسلم،شوقین علی،محمدسہیل، محمد عامر، افرا خاتون،ارشاد سیانوی، عامر نظیر ڈار،حشمت علی، شاداب علی، طا ہرہ پروین اور کثیر تعداد میں عمائدین شہر اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ 

Wednesday, August 31, 2016

اخلاق الرحمن قدوائی اور محمد شفیع قریشی کی یاد میں تعزیتی جلسہ

غالب انسٹی ٹیوٹ میں اخلاق الرحمن قدوائی اور محمد شفیع قریشی کی یاد میں تعزیتی جلسہ
غالب انسٹی ٹیوٹ اور انجمن ترقی اردو ہندکے زیر اہتمام ملک و قوم کے عظیم رہنما ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی اور محمد شفیع قریشی کے انتقال پر ایوانِ غالب میں ایک تعزیتی جلسے کا انعقاد کیاگیاجس میں پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر اطہر فاروقی، مفتی عطاء الرحمن قاسمی، ڈاکٹر حنیف ترین، ڈاکٹر رضاحیدرکے علاوہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کے صاحبزادے مونس قدوائی نے اظہارِ تعزیت پیش کی۔ پروفیسر اخترالواسع نے اپنی تعزیتی گفتگو میں فرمایاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی بنیادی طوپرایک بڑے سائنس داں تھے مگر انہوں نے ملک و قوم کی ترقی کے لیے بڑے سے بڑاعہدہ قبول کیااور جس شعبے سے وابستہ رہے اپنی ذہانت و قابلیت سے اُس شعبے کو بلندیوں تک پہنچایا، انہوں نے مزید کہاکہ محمد شفیع قریشی بھی ایک بے باک انسان تھے اور انہوں نے بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کی خاصیت یہ تھی کہ وہ سماج کے ہر طبقے کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ جب وہ ہریانہ کہ گورنر ہوئے تو انہو ں نے اس ریاست کے سب سے پسماندہ علاقے میوات کی عوام کی ترقی کے لیے نہایت ہی اہم اور بنیادی امور انجام دیے۔ جس ریاست کے بھی گورنر رہے اُس ریاست کی ترقی، تعلیم اور اقتصادی خوشحالی اُن کی ترجیحات میں تھی۔ مرحوم محمد شفیع قریشی بھی ہمارے اُن اکابرین میں سے تھے جنہوں نے کبھی اصولوں سے سمجھوتا نہیں کیا۔ اِن دو عظیم رہنماکا ایک ساتھ رخصت ہوجانا ہم سب کے لیے کسی بڑے نقصان سے کم نہیں ہے۔ انجمن ترقی اردوکے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے فرمایاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی بڑے سے بڑے منصب پررہے مگر اردوزبان و ادب کی ترقی کے لیے بھی ہمیشہ کام کرتے رہے۔ انجمن ترقی اردو ہند کے علمی معاملات میں کافی دلچسپی لیتے تھے اور ادارے کے لیے ان کی خدمات کا ہمیشہ اعتراف کیا جائے گا۔ مفتی عطاء الرحمن قاسمی نے کہاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی جیسی ہستی صدیوں میں پیدا ہوتی ہے،بڑے عہدوں سے وابستگی کے باوجود، قناعت پسندی اور انسان دوستی اُن کی زندگی کا سب سے خاص عنصر تھا، بہا رکے گورنر رہتے ہوئے انہوں نے سماجی، علمی اور مذہبی شعبے میں جوگراں قدر خدمات انجام دی ہیں اُسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا،ڈاکٹر حنیف ترین نے اپنے تعزیتی کلمات میں فرمایاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی نے انسانیت کی خدمات کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی۔ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کے صاحبزادے مونس قدوائی نے بھی اپنے تاثراتی کلمات میں غالب انسٹی ٹیوٹ اور انجمن ترقی اردو ہندکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اِن دوبڑے اداروں نے ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کی خدمات کااعتراف کیاجس کے لیے میں ذاتی طورپر شکریہ ادا کرتاہوں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرنے جلسے کی ابتدامیں اِن دونوں مرحومین کو اظہارِ تعزیت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی اور محمد شفیع قریشی کاسیاسی، سماجی اور علمی سفر اتنا طویل تھاکہ اُس پر جتنا بھی اظہارخیال کیا جائے کم ہے۔ ہندستانی سیاست میں ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی نے لمبے عرصے تک اپنی موجودگی کااحساس کرایااو ربہار،بنگال، ہریانہ کے گورنر، دلّی کے لیفٹننٹ گورنر، ممبرراجیہ سبھا، چیرمین، یونین پبلک سروس کمیشن کے علاوہ جن جن عہدوں سے وابستہ رہے آپ نے اپنی ذہانت، محنت، ایمانداری، دیانت داری، خلوص اور دلچسپی کے ساتھ تمام عہدوں کی عزت وآبرو کوبرقرار رکھا۔یہ دونوں حضرات غالب انسٹی ٹیوٹ سے بھی وابستہ تھے اور اِن کی وابستگی سے ادارے کے وقارمیں ہمیشہ اضافہ ہوتارہا۔ اس جلسے میں ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی اور محمد شفیع قریشی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لے بڑی تعداد میں مختلف شعبوں کے لوگ موجود تھے۔ 

Wednesday, August 24, 2016

سابق گورنراخلاق الرحمن قدوائی کی رحلت پر غالب انسٹی ٹیوٹ میں تعزیتی جلسہ

کئی صوبوں کے سابق گورنر، سابق ممبر راجیہ سبھا، سابق چیرمین یونین پبلک سروس کمیشن و ٹرسٹی، غالب انسٹی ٹیوٹ ، ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ میں فوراً ایک تعزیتی جلسے کاانعقاد کیاگیا۔اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کی رحلت ہم سبھی کے لیے ایک بڑے المیے سے کم نہیں ہے۔ مرحوم ایک طویل مدت تک بڑے سے بڑے منصب پر فائز رہے مگر ہرایک کی خوشی و غم میں برابر شریک رہے، دوسروں کے دکھ میں خودکو اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک رکھنا آپ کی زندگی کانصب العین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے انتقال سے اُن سے وابستہ تمام افراد پر سوگواری کا عالم ہے۔ جس ادارے سے بھی آپ وابستہ رہے اُس ادارے کواپنی ذہات اور لیاقت سے بلندیوں تک پہنچایا، بحیثیت گورنر آپ جس صوبے میں بھی رہے اُس کی ترقی میں آپ کازبردست کردار رہا۔ موت برحق ہے اور ہر شخص کو اُس کی گرفت میں آناہے۔ مگر ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کی موت صرف ان کی موت نہیں ہے بلکہ، ایک عہد اور ایک تہذیب کا خاتمہ ہے۔ آپ کی کمی ہمیں ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔میری دعا ہے کہ پروردرگار عالم اُن کے درجات کو بلند کرے اور ہم سبھی کو حوصلہ عطا کرے کہ ہم اس عظیم غم کو برداشت کرسکیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدرنے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی مدتوں سے غالب انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ رہے اور آپ نے اس ادارے کو فروغ دینے میں نمایاں امور انجام دیے۔ بحیثیت ٹرسٹی اور ایکزیکٹو ممبر آپ ادارے کے تمام معاملات میں کافی دلچسپی لیتے تھے اور ہر ممکن آپ کی یہ کوشش رہتی تھی کہ غالب انسٹی ٹیوٹ اپنے اغراض ومقاصدکے ساتھ آگے بڑھتارہے۔ ہمیں بے انتہا افسوس ہے کہ آج ہم اپنے ایک بڑے محسن سے محروم ہوگئے۔ ہماری یہ کوشش ہوگی کہ ہم آنے والے دنوں میں اُن کے وژن کو لے کرادارے کوعلمی وادبی اعتبار سے مزید مضبوط بنائیں۔ اس تعزیتی جلسے میں ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر سہیل انور، عبدالواحد، یاسمین فاطمہ، عبدالتوفیق، محمدعمر، پرویز عالم کے علاوہ غالب انسٹی ٹیوٹ کے تمام اسٹاف نے اپنے گہرے رنج و غم کااظہار کیا۔