Monday, December 15, 2014

سالانہ غالب تقریبات

غالب انسٹی ٹیوٹ زیراہتمام بین الاقوامی غالب تقریبات کاانعقاد
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام بین الاقوامی غالب سمینار کی افتتاحی تقریب۱۹؍دسمبر کوشام چھ بجے منعقدکی گئی جس میں نائب صدر غالب انسٹی ٹیوٹ، پرویز علی احمد کے دستِ مبارک سے غالب انعامات کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس موقع پرعہد حاضر کے معروف نقادپروفیسرقاضی افضال حسین کوغالب انعام برائے اردو تحقیق و تنقید،فارسی کے ممتاز اسکالرپروفیسرنبی ہادی کوفخرالدین علی احمدغالب انعام برائے فارسی تحقیق و تنقید،مشہور افسانہ نگارپروفیسر عبدالصمد کوغالب انعام برائے اردو نثر،معروف شاعرجناب مضطرمجازکوغالب انعام برائے اردو شاعری ملک کے اہم اداکار اور تھیئٹر آرٹسٹ جناب ٹام آلٹر کوہم سب غالب انعام برائے اردو ڈرامہ سے نوازا گیا اورپروفیسر شمس الحق عثمانی کومجموعی ادبی خدمات کے ایوارڈ سے سرفرازکیا گیا۔ ہرایوارڈ یافتگان کی خدمت میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ۷۵ہزار روپے اورمومنٹوپیش کیاگیا۔
اس موقع پرغالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری ،پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ ہم غالب تقریبات کے موقع پر نہ صرف غالب کو یاد کرتے ہیں بلکہ ہم اُن ادیبوں اور دانشوروں کوبھی یاد کرتے ہیں جنہوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیاہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ سمیناراردو، حالی، شبلی اور محمد حسین آزادکی نثرپرکیاہے ان حضرات نے اردو نثرکو اتنی تونائی عطاکی کہ آج ہماری اردو نثر ان کی رہینِ منت ہے۔
ممتاز ادیب و دانشورپروفیسر ابوالکلام قاسمی نے بین الاقوامی غالب سمینارجو:’’ جدید اردو نثر کے معمار:محمد حسین آزاد حالی اور شبلی‘‘کے موضوع پر منعقد کیااُس کا افتتاح اپنے کلیدی خطبہ سے کیا۔ پروفیسرابوالکلام قاسمی نے فرمایاکہ محمد حسین آزاد، حالی اور شبلی نے اردو ادب کو اتنی اہم کتابیں دیں جو ہمارے لئے دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ نے اپنی گفتگو میں محمد حسین آزاد کی نثرکاخصوصیت کے ساتھ ذکرکیا۔ حالی کی نثرکاذکر کرتے ہوئے آپ نے کہاکہ مقدمہ شعروشاعری ہمارے ادب کی اتنی اہم کتاب ہے جو آج بھی ہماری رہنمائی کررہی ہے۔ حالی کی تنقید نگاری نے بہت سے نئے نئے پہلو پیش کیے۔ 
جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے جسٹس جناب آفتاب عالم نے اپنے صدارتی کلمات میں فرمایاکہ ہمیں اِن تمام اسکالرز کو غالب انعامات دیتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے۔ آپ نے موضوع کے تعلق سے فرمایاکہ اِن تینوں ادیبو ں نے اردو نثرکے فروغ میں اتنا اہم کردار ادا کیاہے جسے ہماری ادبی تاریخ میں بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا، اِن تینوں حضرات نے نثرکے علاوہ اور بھی کئی اردو اصناف خدمات ادا کی ہیں۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سید رضاحیدر نے افتتاحی تقریب کی نظامت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ کارکردگی و ادبی سرگرمیوں کی تفصیلات اور مہمانان کا تعارف پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ ادارہ اپنے علمی ،ادبی،تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی وجہ سے نہ صرف ہندستان میں بلکہ پوری دنیامیں جانا جاتا ہے۔آپ نے موضوع کے تعلق سے فرمایاکہ محمدحسین آزاد،حالی اور شبلی ہمارے کلاسیکی ادب کے اُن ممتاز ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی نثرکے ذریعے پورے عہدکو متاثرکیا۔ حالی کی یادگارِ غالب، محمد حسین آزادکی آب حیات اورعلامہ شبلی نعمانی کی موازنۂ انیس و دبیریہ تینوں کتابیں ہماری ادبی تاریخ میں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔
نائب صدر غالب انسٹی ٹیوٹ، پرویز علی احمد،جسٹس بدر دُرریزاحمد اورجسٹس آفتاب عالم کے دستِ مبارک سے غالب انسٹی ٹیوٹ کی شائع کردہ نئی مطبوعات کلاسیکی ادب اور ترقی پسند تنقیدمرتبہ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی ،مجاز،:حیات و خدمات،مرتبہ،ڈاکٹر رضاحیدر،گنجینۂ معنی کا طلسم،ڈاکٹر اسلم پرویز، غالب نامہ کے دونوں شمارے(جولائی۲۰۱۴،جنوری ۲۰۱۵) کے علاوہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی سال۲۰۱۵ء کی ڈائری،کلینڈر، اورسال بھر کی سرگرمیوں کے ایک کتابچہ کارسمِ اجراء بھی عمل میں آیا۔ 
آخر میں ادارے کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدر نے تمام سامعین کااور مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔
سمینار کی افتتاحی تقریب کے اختتام پرشانتی نکیتن سے تشریف لائی مشہور و معروف غزل سنگر محترمہ موسمی رائے نے نے غالب، رومی، جامعی اور فارسی کے شعرا کی غزلیں پیش کیں۔
سمینار کے دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں مشہورنقاد اور دانشور پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے صدارت کی۔ مہمانِ خصوصی کی حثییت سے پروفیسر ابنِ کنول شریک رہے۔ابوالکلام قاسمی نے حالی اورشبلی کے نظامِ نقد اور اُن کے تصور تنقید پرروشنی ڈالتے ہوئے اپنے صدارتی خطبہ میں کہاکہ اردو نثرکے سب سے اہم ستون حالی اورشبلی ہیں۔پروفیسرابنِ کنول نے حالی اور شبلی کی گراں قدر خدمات کااعتراف کیااس جلسہ میں تین مقالہ پڑھے گئے پہلامقالہ ڈاکٹر وسیم بیگم نے حالی کی حیات جاوید کاتنقیدی جائزہ کے عنوان سے پڑھا۔اسی عنوان کے تحت دوسرا مقالہ ڈاکٹر مظہری نے پیش کیا۔ اس جلسہ کا آخری مقالہ جناب شاہد ماہلی نے پیش کیا۔انہوں نے شبلی کی سیاسی بصیرت کے عنوان سے شبلی کی سیاسی بصیرت پر روشنی ڈالی۔ اس جلسہ کی نظامت نورین علی حق نے کی۔ چائے کے وقفے کے بعد دوسرا اجلاس جناب شاہدمہدی کی صدارت میں منعقد ہوااس جلسہ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے پاکستان سے تشریف لائے معروف شاعر اور نقاد پروفیسر اصغر ندیم نے شرکت کی۔ اس جلسہ میں چار مقالہ پیش کیے گئے۔ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے ایک منفرد موضوع حالی کا تصور تاریخ پیش کیا۔انہوں نے حالی کے تصور تاریخ پرگفتگو کرتے ہوئے تاریخ کے متن کوایک بیانیہ کے طورپر دیکھنے کی کوشش کی۔دوسرا مقالہ ڈاکٹرسیدتقی عابدی کا تھاانہوں نے آزاد،حالی اور شبلی کی نثری خدمات کا جائزہ لیا۔پروفیسر قاضی جمال حسین نے شبلی کی نظامِ نقد کابھرپور جائزہ پیش کیا۔ انہو ں نے اس بات پر زوردیاکہ شبلی مغرب سے مرعوب نہ تھے بلکہ انہوں نے مغرب کے مقابلے میں مشرقی شعریات کو اہم جانا۔پروفیسر عتیق اللہ صاحب نے مغربی سیاق میں شبلی کے نظام نقد کا جائزہ پیش کیا۔ سمینار کے دوسرے دن کاتیسرا اجلاس معروف فکشن نگارجناب انتظارحسین صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔ اس جلسہ میں ڈاکٹر اطہرفاروقی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس جلسہ میں تین مقالہ پیش کیے گئے۔ انتظار حسین نے اپنی صدارتی تقریر میں اس بات کی شکایت کی کہ سمینارکے تمام مقالے صرف حالی اور شبلی پر مرکوز ہیں اس میں محمدحسین آزاد کاذکر نہیں آیا۔ حالانکہ یہ سمینار آزاد،حالی اور شبلی کی تثلیث پرقائم کی۔ اس لیے آزاد کاذکر ضروری ہے۔چائے کے وقفے کے بعدآخری اجلاس شروع ہوا۔اس جلسہ میں پروفیسرخالدمحمودمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شامل ہوئے۔ پروفیسر زماں آزردہ نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔ ڈاکٹر احمدامتیاز،ڈاکٹر یوسف عامر اورایلین ڈیسولیئرنے مقالے پیش کیے۔نظامت محترمہ سفینہ بیگم نے کی۔گذشتہ سال کی طرح امسال بھی۲۰ دسمبر۲۰۱۴ شام سات بجے بین الاقوامی غالب تقریبات کے موقع غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عالمی مشاعرہ کاانعقاد ایوانِ غالب میں کیاگیا۔ جس میں ملک اور بیرونِ ملک کے اہم شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ اس عالمی مشاعرے کی صدارت کینڈا سے تشریف لائے ڈاکٹرسیدتقی عابدی نے انجام دی۔ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر سراج اجملی نے انجام دیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سیدرضاحیدرنے اپنی افتتاحی تقریر میں اس مشاعرے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کایہ مشاعرہ ہندستان کے تمام مشاعروں سے اس لیے منفرد ہے کہ ہم اس مشاعرے میں اُن ہی شعراکو مدعو کرتے ہیں جن کے کلام ملک کے معیاری رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں اوراِن شعراء کے کلام کو علمی و ادبی دنیا میں عزت کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ اس مشاعرے میں طلبہ، اساتذہ، اسکالرز، شعراکے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔ 
بین الاقوامی غالب سمینارکے تیسرے دن کے پہلے اجلاس کاانعقاد پروفیسر صادق کی صدارت میں صبح دس بجے شروع ہوا۔اس جلسہ میں چارمقالہ پڑھے گئے۔پہلا مقالہ معید رشیدی کاتھا،ڈاکٹر نورفاطمہ اورڈاکٹر شمس بدایونی کے علاوہ اس جلسہ میں پاکستان سے تشریف لائے معروف فکشن نگارجناب انتظارحسین نے آزاد،حالی اور شبلی کے حوالے سے نہایت اہم مقالہ پیش کیا۔اس جلسہ کی نظامت ڈاکٹر جاوید رحمانی نے کی۔دوسرا اجلاس پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی صدارت میں شروع ہوا۔اس جلسہ میں جناب انتظارحسین مہمانِ خصوصی کے طورپر شامل ہوئے۔آخری دن کے دوسرے جلسہ میں چار مقالے پیش کیے گئے،ڈاکٹر علی جاوید کے علاوہ پروفیسر انیس اشفاق نے موازنہ کاقضیہ،ڈاکٹر اصغرندیم سید نے حالی کے تنقیدی امتیازات پر روشنی ڈالی۔پروفیسر قاضی افضال حسین نے حالی کے تنقیدی افکارکاجائزہ پیش کیا۔ لنچ کے وقفہ کے بعد تیسرا اجلاس پاکستان سے تشریف لائے معروف اسکالر ڈاکٹر اصغرندیم سید کی صدارت میں دوپہردوبجے شروع ہوا۔اس جلسہ میں پانچ مقالے پڑھے گئے۔ پروفیسر شریف حسین قاسمی،قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، پروفیسر انورپاشااورڈاکٹر خلیق انجم نے جدیداردو نثر کے معمار آزاد،حالی اور شبلی کے مختلف پہلوؤں کاجائزہ لیا۔پروفیسر مظہرمہدی نے آزادکوانگریزی مشین کے ایک پُرزے کے طورپر دیکھنے کی کوشش کی۔اختتامی جلسہ میں پاکستان سے تشریف لائے جناب انتظارحسین،ڈاکٹر اصغر ندیم سیداور مصرسے تشریف لائے ڈاکٹر یوسف عامر نے سمینار کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اور غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی کی کاوشوں کوسراہااوریہاں کے اراکین ادارہ کوسمینار کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ اختتامی جلسہ کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے انجام دی۔ اورمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے شرکت کی۔اس جلسہ کی نظامت غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدرنے انجام دی۔ اورجناب شاہد ماہلی نے تمام شرکاکا شکریہ ادا کیا۔آخری جلسہ میں سمینار میں تشریف لائے تمام اسکالرس اورہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں سے تشریف لائے اور طلبا اور طالبات کی خدمت میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی مطبوعات پیش کی گئیں۔ غالب تقریبات کے اختتام پر ہم سب ڈرامہ گروپ(غالب انسٹی ٹیوٹ) اوربہروپ آرٹس گروپ کی طرف سے کرخواجہ احمدعباس کا تحریر کردہ اُردو ڈرامہ ’’اجنتا کی طرف‘‘پیش کیا گیا،،جس کی ہدایت کے فرائض جناب اروند آلوک انجام دیے۔

غالب انسٹی ٹیوٹ میں عالمی مشاعرہ کا انعقاد

گذشتہ سال کی طرح امسال بھی ۲۰ دسمبر۲۰۱۴ شام سات بجے بین الاقوامی غالب تقریبات کے موقع پرغالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عالمی مشاعرہ کاانعقاد ایوانِ غالب میں کیاگیا۔ جس میں ملک اور بیرونِ ملک کے اہم شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ اس عالمی مشاعرے کی صدارت کینڈا کے ممتاز ادیب و دانشور ڈاکٹر سید تقی عابدی نے انجام دی۔اور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ملک کے اہم شاعر اور اس سال کے غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شاعری کے غالب انعام یافتہ شاعرمضطرمجاز موجود تھے۔ نظامت کا فریضہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی شعبۂ اردو کے سینئر استاد ڈاکٹر سراج اجملی نے انجام دیا۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سیدرضاحیدرنے اپنی افتتاحی تقریر میں اس مشاعرے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کایہ مشاعرہ
ہندستان کے تمام مشاعروں سے اس لیے منفرد ہے کہ ہم اس مشاعرے میں اُن ہی شعراکو مدعو کرتے ہیں جن کے کلام ملک کے معیاری رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں اوراِن شعراء کے کلام کو علمی و ادبی دنیا میں عزت کی نظروں سے دیکھا جاتاہے۔ اس مشاعرے میں طلبہ، اساتذہ، اسکالرز، شعراکے علاوہ مختلف علوم و فنون کے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔ پیش ہیں کچھ شعرا کرام کے منتخب کلام:
گذرجاتی ہے ساری زندگی جن کے تعاقب میں
بگولے ہیں کسی بھی خواب کی صورت نہیں ہوتی
عذرا نقوی
کس کی تعریف کریں، کس کے قصیدے لکھیں
نفسِ مضمون سے بڑھ کر ہیں حوالے اچھے
مہتاب حیدر نقوی
سجدوں کو کیا رسم و تکلف
کیا جادہ سجادہ پرسی
نسیم عباس
میری قسمت کا ستارا ہے چمکنے والا
میرے بارے میں ووٹر کاخیال اچھا ہے
اس بھروسے پہ الیکشن میں کھڑا ہوں میں بھی
اک نجومی نے کہا کہ یہ سال اچھا ہے
اعجاز پاپولر
آہستہ آہستہ ایسا وقت بھی آئے گا
جب روشن سورج کا تعارف دیا کرائے گا
مضطر مجاز
نظر بت تراشوں کی جن کو ملی ہے
چٹانوں کے اندر صنم دیکھتے ہیں
تقی عابدی
خود سے ملنے کی بھی جستجو کیجئے
دل جو تنہا ملے گفتگو کیجئے
اسد رضا
وہ برگ و بار اُگائے ہیں ہم نے گلشن میں
مسل بھی جائیں تو اِن سے حِنا نکلتی ہے
ڈاکٹر ناشِر نقوی
کہاں کا پیڑ، نہیں پھوٹی کوئی کونپل بھی
ہزاروں آرزوئیں دل میں بوچکیں آنکھیں
ڈاکٹر ظفر مراد آبادی
عبارتیں تیرے چہرے کی یوں بھی ہیں ازبر
کہ اس کتاب کو میں نے پڑھا زیادہ ہے
وقار مانوی
عزم و ایثار و وفا کا جو ہنرجانتے ہیں
بس وہی قافلے آدابِ سفر جانتے ہیں
قیصر اعظمی
میں چاہ کر بھی ترے ساتھ چل نہیں سکتا
اے نسلِ نو تری رفتار کچھ زیادہ ہے
اقبال اشہر
بس ایک بار ترا عکس جھلملایا تھا
پھر اس کے بعد مرا جسم تھا نہ سایہ تھا
راشد انور راشد
اُدھر کے رُخ سے جو دیکھ آئے سو دیکھ آئے
اِدھر سے دیکھو کچھ اور منظر دکھائی دے گا
راشد جمال فاروقی
مزا نہ آیا کہانی میں کچھ ہمارے بغیر
جہاں کٹے تھے وہیں پھر رقم کئے گئے ہم
شکیل اعظمی
راہ و رسم اس کی امیرالبحر سے کیا خاک تھی
پیاس سے بے تاب اب پھرتا ہے دریا آشنا
سراج اجملی
میں اُس کی بزم ناز میں ہوکر بھی آگیا
الجھا رہا زمانہ ثواب و عذاب میں
افضل منگلوری
بدل گئے ہیں تقاضے حیات کے پھر بھی
کسی سے پیار ہمیں اب بھی آہ کتنا ہے
شاہد ماہلی
جناب شاہد ماہلی کے اظہارِ تشکّر کے ساتھ مشاعرہ کااختتام ہوا۔
۔۔۔۔











Wednesday, November 26, 2014

ڈاکٹرمحمدسہیل عمرکاغالب انسٹی ٹیوٹ میں اقبال پر خطبہ

ممتازماہر اقبالیات اور اقبال اکیڈمی،لاہور پاکستان کے ڈائرکٹر ڈاکٹرمحمدسہیل عمرنے ’’مطالعات اقبال کی نئی جہتیں ‘‘کے موضوع پر خطبہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ
اقبال کے بارے میں جو تصورات بہت عام اور مشہور ہیں اُن میں اقبال کو ایک طرف فلسفی، مفکر اور مصلح قوم کے طورپر غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے لیکن اُن کی شاعرانہ حیثیت کو وہ مقام عموماً نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہیں۔ آپ نے مزید فرمایاکہ اقبال کے بارے میں شمس الرحمن فاروقی نے پچھلے چند برسوں میں جو سوالات اٹھائے ہیں اُن پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ انہو ں نے فاروقی صاحب کے حوالے سے اُن سوالات پر بھی تفصیلی گفتگوکی۔
اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنی صدارتی تقریر میں فرمایاکہ ڈاکٹر محمد سہیل عمر کا آج کایہ خطبہ اِن معنو ں میں نہایت علمی ہے کہ آپ نے مطالعاتِ اقبال کے اُن پہلوؤں پر گفتگو کی جن سے ہم کم اشنا تھے۔ آپ نے مزید کہاکہ اقبال ہمارے اُن بڑے شعرامیں سے ہیں جنہیں ہم کسی ملک یا سرحد میں قید نہیں کرسکتے۔ اپنے کلام کی آفاقیت کی وجہ سے اقبال دنیا کے مقبول ترین شعرا میں سے ایک ہیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائر کٹرڈاکٹررضاحیدرنے ڈاکٹر محمد سہیل عمرکا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ آپ کا شمار اہم ماہر اقبالیات میں ہوتاہے۔آپ بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں خصوصاً اقبال پر لکھی ہوئی آپ کی کتابیں علمی دنیا میں احترام کی نظرو ں سے دیکھی جاتی ہیں، آپ کی نگرانی میں اقبال اکادمی نے کافی ترقی کی ہے یہی وجہ ہے کہ اقبال اکادمی کا شمار برصغیر کے بڑے علمی اداروں میں ہوتاہے۔ پاکستان سفارت خانے کے فرسٹ سکریٹری سید ضرغام رضانے بھی اپنی گفتگو میں کہا کہ اردو زبان و ادب کے تعلق سے ہندستان میں جتنا اہم کام ہورہاہے اس کا ہم سبھی پاکستانی اعتراف کرتے ہیں۔ آخر میں شاہد ماہلی نے تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پرپروفیسر عبدالحق،ڈاکٹر محمد کاظم، ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر توقیر احمد خاں، ڈاکٹر احمد محفوط، محترمہ سفینہ، ڈاکٹر ادریس احمد،مسعود فاروقی، ڈاکٹر سہیل انور، یاسمین فاطمہ، عبدالواحد،محمد عمرکے علاوہ بڑی تعداد میں اہل علم موجود تھے۔

Monday, November 10, 2014

لیفٹنٹ گورنر جناب نجیب جنگ کی غالب انسٹی ٹیوٹ میں آمد

دلّی کے لیفٹنٹ گورنر عزت مآب جناب نجیب جنگ کی غالب انسٹی ٹیوٹ میں آمد پر ادارے کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، وائس چیرمین ڈاکٹر پرویز علی احمداور ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدرنے لیفٹنٹ گورنر کاپرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر محترم لیفٹنٹ گورنر کی خدمت میں ادارے کی اہم مطوعات پیش کی گئیں۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور ڈاکٹر رضاحیدرنے لیفٹنٹ گورنر سے غالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ ادارہ پچھلے۴۵برسوں سے غالب، معاصرین غالب، کلاسیکی ادب، ملک کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت پر بڑے اہم کام کررہاہے۔خصوصاً اس ادارے نے دلّی کی تاریخ و تہذیب پر بھی کئی اہم کتابیں شائع کی ہیں اور سمینار کا اہتمام کیا ہے۔ ادارے نے اب تک ۲۰۰ سے زیادہ قومی اور بین الاقوامی سمینار اور ۳۰۰سے زیادہ کتابیں بھی شائع کی ہیں۔ محترم لیفٹنٹ گونر نے اپنے ۴۵منٹ کے سفرمیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے میوزیم، لائبریری، آڈیٹوریم اور نادر مخطوطات کو دیکھا۔ اپنے تاثرات میں لیفٹنٹ گورنر نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے علمی و ادبی کاموں کی بھرپور ستائش کی اور امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں یہ ادارہ نہ صرف غالبیات بلکہ اردو زبان و ادب اور دلّی کی تہذیب و تاریخ کے فروغ میں اہم کردار اَدا کرے گا۔
تصویر میں:کتابوں کا تحفہ دیتے ہوئے :سید رضاحیدر،عزت مآب نجیب جنگ،ڈاکٹر پرویز علی احمد،پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی

Sunday, October 12, 2014

امیر خسرو سمینارکا ایوانِ غالب میں انعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل امیر خسرو سوسائٹی کے زیراہتمام ’’امیر خسرو کی دلّی : تاریخی اور سماجی منظرنامہ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے سمینار کے افتتاحی اجلاس میں امیر خسرو سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر خلیق انجم نے اس سمینار کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایاکہ امیر خسرو ہماری علمی و ادبی تاریخ اتنے عظیم شاعر ہیں کہ جن پر بہت کم علمی کام ہواہے۔ امیر خسرو کے کلام کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ وہ ہندوستان سے بہت محبت کرتے تھے اور انہوں نے اس ملک کی تہذیب و ثقافت کو جس خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے وہ ہماری تاریخ کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے خسرو سے متعلق اُن کتابوں کابھی ذکرکیاجو کتابیں تفہیم خسرو میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ معروف فارسی ادیب پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ خسرو جتنے ہندستان میں مقبول ہیں اتنے ہی زیادہ بیرونِ ہند میں مقبول ہیں۔ امیر خسرو آج بھی بیرون ملک میں ثقافتی سفیر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ خسر ونے دلی کی تاریخ اور دلی کی ثقافت کو اتنے وسیع پیمانے پر پیش کیاہے کہ آج ہم بغیر خسرو کے دلّی کی تاریخ کو نہیں سمجھ سکتے۔ آپ نے مزیدکہاکہ خسرو نے دلّی کی تاریخ کو محض شاعری کے پیرائے میں نہیں پیش کیاہے بلکہ وہ تمام باتیں حقیقت پر مبنی ہیں۔
اس جلسے کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ امیرخسرو ہمارے اُن بڑے شاعرو ں میں ہیں جن کاکلام آج بھی ہماری علمی رہنمائی کررہاہے۔ غالب بھی خسرو کے چشمۂ فکر سے مسلسل فیض یاب ہوتے رہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم آنے والے دنوں میں امیر خسرو پر بڑے جلسے منعقد کریں گے تاکہ آج کے دور میں ہم خسرو کوصحیح طریقے سے روشناس کراسکیں۔ ایران کلچر ہاؤس کے کلچرل کاؤنسلر علی فولادی جو اس جلسے میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے آپ نے فرمایاکہ خسرو کے کلام کو ایران میں کافی پڑھا جاتاہے اور خسرو کو اتنی ہی عزت دی جاتی ہے جتنی ایرانی شعراکو، آپ نے امیر خسرو کو قومی یکجہتی کا علمبردار اور انسانیت کا امین بتایا۔ نیشنل امیر خسرو سوسائٹی کے جنرل سکریٹری شاہد ماہلی نے امیر خسرو سوسائٹی کی تاریخ کو پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ سوسائٹی پچھلے کئی برسوں سے کافی اہم کام انجام دے رہی ہے۔ کئی بڑے لوگ اس سوسائٹی سے وابستہ تھے اور انہو ں نے کافی اہم کام کیاے۔ آنے والے دنو ں میں ہم بھی اس سوسائٹی کے ذریعے امیر خسرو پر کئی علمی کام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سید رضاحیدر نے اپنی ابتدائی گفتگو میں کہاکہ خسرو کی دلّی کی تاریخ اور دلّی کے سماجی منظرنامے سے اتنی وابستگی تھی کہ ہم خسرو کو دلّی کے بغیر اور دلّی کو خسرو کے بغیر تصور ہی نہیں کرسکتے ہیں۔ افتتاحی جلسے کے بعد ملک کے معروف کلاسیکی سنگر استاد اقبال احمد خاں نے کلام خسرو اپنی خوبصورت آواز میں پیش کیا۔ اس جلسے میں بڑی تعداد میں اہل علم ، ادبا اور اسکالرز موجود تھے۔
سمینار کے دوسرے دن امیر خسرو کی زندگی، شاعری اور عہدِ خسرو کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ پر دلّی اور بیرونِ دلّی کے علماء نے اپنے پُرمغز مقالات پیش کئے۔دوسرے دن کے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر شریف حسین قاسمی اور پروفیسر علی احمد فاطمی نے کی، اس اجلاس میں ڈاکٹر قمر عالم، پردیب خسرو، ڈاکٹر نکہت فاطمہ، ڈاکٹر علیم اشرف، ڈاکٹر احسن الظفر اور پروفیسر عبدالقادرجعفری نے مقالات پیش کئے۔ اس اجلاس کی نظامت کا فریضہ ڈاکٹر عمیر منظر نے انجام دیا۔
دوسرے اجلاس میں پروفیسر چندرشیکھر، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر علی احمدفاطمی، ڈاکٹرسرفراز احمد خان، ڈاکٹر عمیر منظر اور پروفیسر صادق نے خسرو کی تصانیف اور عہد خسرو کی دلّی کے ہر پہلو پر اپنے خیالات کا اظہارکا۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور پروفیسر عبدالقادر جعفری نے کی اور نظامت کے لئے ڈاکٹر احتشام الدین کو زحمت دی گئی۔ سمینار کا آخری اجلاس پروفیسر صادق اور پروفیسر چندرشیکھر کی صدارت میں ہوااور اس اجلاس میں ڈاکٹر فوزیہ وحید، ڈاکٹرارشاد نیازی، ڈاکٹر احتشام الدین، ڈاکٹرسکینہ اور ڈاکٹر رفاق احمدنے مقالات پیش کئے۔ نظامت ڈاکٹر سرفراز احمد خاں کی تھی۔ اِن تینوں اجلاس میں خسرو نے دہلی کے بارے میں جو اطلاعات اپنے مختلف آثار میں فراہم کی ہیں، ان کے بارے میں تحقیقی مقالات پیش کیے گئے۔ خسرو نے اپنے دور تک دہلی کی سیاسی، ثقافتی اور ادبی تاریخ کو بڑی توجہ سے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ یہ تمام ہی موضوعات سمینار کے مختلف مقالات میں بحث کا موضوع بنے۔مقالات کے بعد جوبحث و مباحثہ ہوا، اس کی وجہ سے یہ موضوعات زیادہ وضاحت سے روشنی میں آئے۔آخر میں نیشنل امیر خسرو کے جنرل سکریٹری شاہد ماہلی نے تمام سامعین اور مقالہ نگار حضرات کافرداً فرداب شکریہ ادا کیا۔اس سمینار میں بڑی تعداد میں مختلف علوم و فنون کے افراد موجود تھے۔

Wednesday, October 8, 2014

بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے 
بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار۲۶،۲۷،۲۸ستمبر کو ایوانِ غالب میں منعقد ہوا۔ جس میں ملک و بیرون ملک کی مختلف دانشگاہوں سے اسکالرز نے شرکت کی۔ سمینار کا افتتاح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کیا۔ پروفیسر طلعت احمد نے افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان پڑھے اور سمجھے تاکہ اس کاتحفظ اور وقار بلند و بالا ہو۔ ریسرچ اسکالرز کو محنت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیاری تحقیق ممکن ہو۔اگر وہ ابھی محنت کریں گے تو آگے چل کرایک بہترادیب کی صف میں ان کا شمار ہوسکے گا۔اس موقع پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ آج ہم ان سے مخاطب ہیں جو اردو زبان و ادب کے مستقبل ہیں۔ اردو کے نئے امکانات انہیں اسکالروں سے وابستہ ہیں۔یہی نوجوان اردو اداروں کے اساتذہ اور افسران ہوں گے۔ ریسرچ اسکالرز سمینار غالب انسٹی ٹیوٹ کی شناخت بن چکا ہے اورقومی کونسل کی بھی مستقل یہی کوشش ہے کہ دیگر اداروں کے اشتراک سے اہم سمینار اور پروگرام منعقد کراتا رہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدر نے دوران نظامت گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ گزشتہ چالیس برسوں سے غالب،عہدِ غالب اور معاصرین غالب کے حوالے سے کارہائے نمایاں انجام دیتا رہا ہے۔ تقریباً سوسمیناراورتین سو کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ ریسرچ اسکالر سمیناراہمیت کاحامل ہوچکاہے اب ایک دن کے بجائے تین دنوں تک اسکالروں کو اپنے خیالات پیش کرنے کاموقع ملے گا۔ اس بین الاقوامی سمینار کا دائرہ وسیع ہونے کی واحد وجہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کاتعاون ہے۔ عہد حاضر کے ممتاز نقادپروفیسر عتیق اللہ نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہاکہ اسکالرسمینار کافی اہمیت و افادیت کاحامل ہے جس میں ہندستان کی اور بیرونِ ملک کی مختلف دانشگاہوں سے ریسرچ اسکالرز شرکت کرتے ہیں۔اساتذہ اورریسرچ اسکالروں کوسنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے،اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اسکالروں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہیں موضوع دیں۔ ریسرچ اسکالروں کوفارسی بھی سیکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ زیادہ تر سرمایہ فارسی میں محفوظ ہیں۔فارسی زبان و ادب کے معتبراسکالرپروفیسرشریف حسین قاسمی نے بھی کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہاکہ کچھ کام اساتذہ کو سنجیدگی سے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبا کی تربیت ممکن ہوسکے۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر معیاری تحقیقی کام کی اہم وجہ تربیت کا نہیں ہونا ہے۔ سمینار کے افتتاحی اجلاس میں موجودپاکستان کے کارگزارہائی کمشنر منصورعلی خاں نے کہاکہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کوخود سے کافی قریب محسوس کرتا ہوں کیونکہ یہ ادارہ اردو کے تئیں اہم کردار ادا کر رہاہے۔ آخرمیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اسکالروں میں سہل پسندی آگئی ہے جبکہ محنت و لگن کی ضرورت ہے۔ ادب بھی تنہا ادب نہیں رہ سکتااگر دیگر علوم سے فائدہ نہیں اٹھایا جائے۔ ریسرچ میں اپنے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سمینار کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریسرچ اسکالروں کویہ اختیار حاصل رہتا ہے کہ وہ اپنے مقالے ایم فِل یا پی ایچ ڈی کے موضوع کے حوالے سے ہی پیش کرسکتے ہیں۔ شاہد ماہلی نے اظہار تشکر ادا کرتے ہوئے کہاکہ ریسرچ اسکالرز سمینار تمام اسکالرز کے لیے بہت مبارک ہے اس لیے کہ جس ریسرچ اسکالر نے یہا ں مقالہ پیش کیا آج وہ اردو کا بڑا ادیب ہے۔اس سمینار میں ہندستان کی اہم یونیورسٹیوں کے اردو اور فارسی ریسرچ اسکالرز کے علاوہ پاکستان کے بھی ریسرچ اسکالرز نے شرکت کی۔ابوہریرہ، شیبا حیدر،ضیاء الرحمن، دھرم ویر وسنگھ،محمد آصف ملک، شاہنواز احمد اجے کمار، کہکشاں فلک،حیدر علی، محمد احتشام الحسن، رحمت یونس، رفعت مہدی رضوی، عزیز احمد، زیبا فاروقی، سعدالدین،محمد ایوب، جمیلہ بی بی، منہاج الدین، منت اللہ صدیقی، زبیر احمد، انو میاں،ایاز احمد، ارشد جمیل،محمد حذیفہ، عبدالرحیم،ذاکرحسین،سعدیہ جعفری،عبدالکریم،سفینہ، فاطمہ پروین،یاسر عباس،عرشِ منیر، شفیق انور،نغمہ نگار، علی ابراہیم آرزو، عندلیب عمر کے علاوہ پاکستان سے سعدیہ سرور،ارساکوکب اور صائمہ ارم نے مقالات پیش کیے۔ان تین دنوں میں صدارتی فریضہ کے لیے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی،ڈاکٹر خلیق انجم، شاہد ماہلی،پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر علی احمد فاطمی،پروفیسر صادق، پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر بلقیس فاطمہ حسینی، پروفیسر چندر شیکھر، ڈاکٹر خالد علوی،پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر ابنِ کنول، پروفیسر عبدالقادر جعفری، پروفیسر توقیر احمد خاں،پروفیسر ارتضیٰ کریم، ڈاکٹر شعیب رضا خاں، ڈاکٹر اطہر فاروقی،ڈاکٹر ثروت خان، پروفیسر انورپاشا، پروفیسر عین الحسن اور پروفیسر معین الدین جینابڈے موجود تھے۔اس سمینار میں ۹اجلاس منعقد ہوئے جس میں عبدالسمیع،محضر رضا، نوشاد منظر، رفعت مہدی رضوی،سفینہ، نورین علی حق،عینین علی حق،شاہنواز فیاض اورافسانہ حیات نے نظامت کا فریضہ انجام دیا۔ اختتامی اجلاس پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پروفیسر ابن کنول،شاہد ماہلی،صائمہ ارم،ڈاکٹر خلیق انجم، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کے علاوہ ڈاکٹر رضاحیدرنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سمینار کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ ان تین دنوں میں ۶۰سے زیادہ ریسرچ اسکالرز نے بحث و مباحثہ میں حصہ لیا جن کوبطور خاص مدعو کیاگیا تھا۔غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے سمینار میں تمام مقالہ نگاروں کوادارے کی اہم کتابوں کاتحفہ اورتمام ریسرچ اسکالرز کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس سمینار میں دلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تقریباً ساڑھے تین سو ریسرچ اسکالرز کے علاوہ بڑی تعداد میں ایم۔اے کے طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
اختتامی اجلاس کی تصویر میں دائیں سے: ڈاکٹر سیدرضاحیدر،پروفیسر محمد خواجہ محمد اکرام الدین، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی،شاہد ماہلی اورڈاکٹر صائمہ ارم

Tuesday, September 2, 2014

ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی کتاب ’’مابعدنوآبادیات۔اردو کے تناظر میں‘‘پرایک مذاکرے کااہتمام

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہرِ یاراں کے موقع پرپاکستان کے ممتاز نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی کتاب ’’مابعدنوآبادیات۔اردو کے تناظر میں‘‘پرایک
مذاکرے کااہتمام کیاگیا۔ اس مذاکرے کی صدارت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ ناصر عباس نیّر اردو کے ایک اہم نقّاد ہیں، اُن کی اس اہم کتاب پر مذاکرے سے ہمیں اس لئے بھی خوشی محسوس ہورہی ہے کہ اس کو پڑھ کر ہمیں مابعد نوآبادیاتی مسائل کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ آپ نے مزید فرمایاکہ یہ کتاب ہماری علمی دنیا میں اس لئے اہمیت کی حامل ہے کہ یہ اپنے موضوع کے اعتبار سے اردو کی پہلی کتاب ہے۔
اس جلسے کے مہمانِ خصوصی پروفیسر شمیم حنفی نے اپنی گفتگو میں کہا نئے خیال کے بارے میں سوچنا نئی زندگی کا پتہ دینا ہے۔ آتش رفتہ کے سراغ نے ہمیں ذہنی بیماری کی صورت میں مبتلا کردیاہے۔ ۱۹ویں صدی اتنی پیچیدہ صدی ہے کہ اس سے سرسری نہیں گزرا جاسکتا۔ ناصر عباس نیّر نے اپنی ادبی روایت کو جدید عناصرکی روشنی میں سب سے عمدہ طریقے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بہت غیر معمولی اور پختہ ذہن رکھنے والے اسکالر ہیں۔ ناصر عباس نیّر علمی شرائط اور تقاضوں کو کبھی نظرانداز نہیں کرتے۔اس کتاب کوپڑھے بغیر ہم آج کے آشوب کو نہیں سمجھ سکتے۔
پروفیسر شافع قدوائی نے کہاکہ مابعد نوآبادیات پر گفتگو کاآغازتو ناصرعباس نیّر نے نہیں کیا مگر سب سے سے زیادہ مضامین انہوں نے ہی لکھے ہیں۔ علم کاجوکھیل ہے دراصل وہ طاقت کا کھیل ہے فاتح قوم اپنی مفتوح قوم کے سامنے ثقافتی ایجنڈا پیش کرتی ہے۔ ناصر عباس نے ان تمام پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ ناصر عباس نیّر نے آزاد اور سرسید کی تحریوں کا بہت سنجیدگی سے مطالعہ کیاہے۔
فرحت احساس نے فرمایاکہ اردو میں تنقیدی رجحانات کو جذب کرنے کے بجائے اگلنے کی کوشش عام رہی ہے ناصر عباس نیّر نے مغربی چیزوں کو اگلنے یا ہوبہو پیش کرنے کے بجائے شفافیت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ جب کچھ لکھتے ہیں تو وہ ہرجگہ موجود رہتے ہی۔ وہ صرف مرکز میں ہی نہیں اس کے مضافات کا بھی احاطہ کرتے ہیں۔
خالدعلوی نے ناصر عباس کی کتاب میں شامل مضامین پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ناصر عباس نیّرنے آزاد کے حوالے سے جو کچھ لکھاہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہو ں نے پہلی مرتبہ اس موضوع پر کچھ لکھنے کی کوشش کی اس لیے ناصر عباس نیّر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ساتھ ہی غالب انسٹی ٹیوٹ بھی قابل مبارک با دہے کہ اس نے اس کتاب پر مذاکرہ کا اہتمام کیا۔
ڈاکٹرسرورالہدی نے کہا کہ مابعد نوآبادیات کے بنیادی نکات پر ناصر عباس نیّر کی جیسی گہری نظرہے وہ اردو میں کہیں اور مشکل سے ملے گی اور اُن کے یہاں اس کی تفہیم میں کسی طرح کی جذباتیت نہیں ہے۔ عام طورپر لوگ مابعد نوبادیات کے سلسلے میں فیشن زدگی کے شکار ہیں اس ماحول میں ناصر عباس نیّر کی یہ کتاب اسکالرشپ اور احساس ذمہ داری کی ایک بڑی مثال ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے جلسہ کی نظامت کرتے ہوئے کتاب کا تعارف پیش کیا اور فرمایا کہ اردو میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے جس میں ۱۹ویں صدی کے اردو زبان و ادب کے اُن محرکات کو معروضی طریقے سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے جن کا تعلق نوآبادیاتی ذہن سے ہے۔ اس جلسہ میں بڑی تعداد میں اہل علم موجود تھے۔

غالب انسٹی ٹیوٹ میں شامِ شہریاراں میں اقبال مرزا کو خراجِ عقیدت

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہرِ یاراں کے موقع پر لندن کااہم رسالہ ’’صدا‘‘ کے مدیر ڈاکٹر اقبال مرزاکی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک ادبی نشست کااہتمام کیاگیا، اس جلسے کی صدارت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ اقبال مرزارہتے تو لندن میں تھے مگر علمی اعتبار سے وہ ہمارے بے حد قریب تھے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سے اُن کا گہرا رشتہ تھاوہ ادارے کے ہر بڑے جلسوں میں لندن سے تشریف لاتے تھے اور اور ہم اُن کے خیالات سے مستفید ہوتے تھے۔
شاہد ماہلی نے اپنی گفتگو میں کہاکہ اقبال مرزا لندن میں رہتے تھے مگر لندن میں رہ کر لکھنوی تہذیب کی وراثت کے امین بنے ہوئے تھے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے اور اُن کی ہر کتاب کوعلمی و ادبی دنیامیں عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا گیا۔آج اقبال مرزا ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ہمیں پوری امیدکہ وہ اپنے علمی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔
اس موقع پر پروفیسر صادق نے اپنی گفتگو میں فرمایاکہ اقبال مرزا اہم شاعر نہیں تھے، اہم ادیب بھی نہیں تھے تاہم ان کی شعرگوئی اور علمیت سے انکار ممکن نہیں۔ لندن سے ماہنامہ ’صدا‘ کی ادارت ان کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔ یہ رسالہ تقریباً ۱۹برس تک پابندی کے ساتھ اپنے بل پر شایع کرتے رہے جس کی یورپ اور امریکہ میں بڑی پذیرائی ہوتی رہی۔
پروفیسر علی احمد فاطمی نے اُن کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایاکہ وہ ایک اچھے ادیب،شاعراور نہایت ہی اچھے انسان تھے۔ وہ اپنے رسالے میں اپنے اداریوں کے ذریعے اپنے نقطۂ نظر کی صحیح ترجمانی کرتے تھے۔ اسلامیات کابھی مطالعہ تھااور کئی اسلامی کتابوں کو انہوں نے ترتیب دیا۔آپ کے انتقال سے یورپ کی اردو دنیاکوبھی کافی نقصان پہنچا ہے۔
پروفیسر محمودالحسن صاحب نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اقبال مرزا کی زندگی سے وابستہ اتنی یادیں ہیں جن کو اگر لکھا جائے تو ایک کتاب تیار ہوجائے گی۔وہ لندن میں رہ کر لکھنؤ کی نمائندگی کرتے تھے۔ اور انہیں اپنی لکھنوی تہذیب پربڑا ناز تھا۔
ڈاکٹر وسیم راشد نے فرمایاکہ ڈاکٹر اقبال مرزانے لندن میں ایک بین الاقوامی سمینار میں مجھے مدعوکیاتھا، میں نے لندن پہنچ کر اس بات کامشاہدہ کیاکہ لندن میں اُن کی علمی حیثیت کتنی بلند تھی۔ وہ ایک بڑے ادیب کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی تھے۔
محترمہ نگار عظیم نے اُن کے رسالے ’صدا‘ کے تعلق سے کہاکہ اُن کے رسالے میں اچھے مضامین شائع ہوتے تھے اور انگلینڈ میں وہ رسالہ کافی مقبول تھا۔ ہندوستان کے ادیبوں کے بھی مضامین اُس میں شائع ہوتے تھے۔
اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدرنے اپنی افتتاحی گفتگو میں فرمایاکہ لندن میں رہ کراپنے رسالے ’’صدا‘‘ کے ذریعے جولوگ پورے یورپ میں اردو زبان و ادب کو فروغ دے رہے ہیں اُن میں ایک اہم نام اقبال مرزا کاتھا، مرحوم کئی کتابوں کے مصنف تھے خصوصاً آپ نے صدا کا عالمی نمبر شائع کیاتھاجوکہ ہماری ادبی دنیامیں دستاویزکی حیثیت رکھتاہے۔اس جلسے میں بڑی تعداد میں اہل علم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے موجود تھے۔