Tuesday, September 2, 2014

ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی کتاب ’’مابعدنوآبادیات۔اردو کے تناظر میں‘‘پرایک مذاکرے کااہتمام

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہرِ یاراں کے موقع پرپاکستان کے ممتاز نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی کتاب ’’مابعدنوآبادیات۔اردو کے تناظر میں‘‘پرایک
مذاکرے کااہتمام کیاگیا۔ اس مذاکرے کی صدارت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ ناصر عباس نیّر اردو کے ایک اہم نقّاد ہیں، اُن کی اس اہم کتاب پر مذاکرے سے ہمیں اس لئے بھی خوشی محسوس ہورہی ہے کہ اس کو پڑھ کر ہمیں مابعد نوآبادیاتی مسائل کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ آپ نے مزید فرمایاکہ یہ کتاب ہماری علمی دنیا میں اس لئے اہمیت کی حامل ہے کہ یہ اپنے موضوع کے اعتبار سے اردو کی پہلی کتاب ہے۔
اس جلسے کے مہمانِ خصوصی پروفیسر شمیم حنفی نے اپنی گفتگو میں کہا نئے خیال کے بارے میں سوچنا نئی زندگی کا پتہ دینا ہے۔ آتش رفتہ کے سراغ نے ہمیں ذہنی بیماری کی صورت میں مبتلا کردیاہے۔ ۱۹ویں صدی اتنی پیچیدہ صدی ہے کہ اس سے سرسری نہیں گزرا جاسکتا۔ ناصر عباس نیّر نے اپنی ادبی روایت کو جدید عناصرکی روشنی میں سب سے عمدہ طریقے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بہت غیر معمولی اور پختہ ذہن رکھنے والے اسکالر ہیں۔ ناصر عباس نیّر علمی شرائط اور تقاضوں کو کبھی نظرانداز نہیں کرتے۔اس کتاب کوپڑھے بغیر ہم آج کے آشوب کو نہیں سمجھ سکتے۔
پروفیسر شافع قدوائی نے کہاکہ مابعد نوآبادیات پر گفتگو کاآغازتو ناصرعباس نیّر نے نہیں کیا مگر سب سے سے زیادہ مضامین انہوں نے ہی لکھے ہیں۔ علم کاجوکھیل ہے دراصل وہ طاقت کا کھیل ہے فاتح قوم اپنی مفتوح قوم کے سامنے ثقافتی ایجنڈا پیش کرتی ہے۔ ناصر عباس نے ان تمام پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ ناصر عباس نیّر نے آزاد اور سرسید کی تحریوں کا بہت سنجیدگی سے مطالعہ کیاہے۔
فرحت احساس نے فرمایاکہ اردو میں تنقیدی رجحانات کو جذب کرنے کے بجائے اگلنے کی کوشش عام رہی ہے ناصر عباس نیّر نے مغربی چیزوں کو اگلنے یا ہوبہو پیش کرنے کے بجائے شفافیت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ جب کچھ لکھتے ہیں تو وہ ہرجگہ موجود رہتے ہی۔ وہ صرف مرکز میں ہی نہیں اس کے مضافات کا بھی احاطہ کرتے ہیں۔
خالدعلوی نے ناصر عباس کی کتاب میں شامل مضامین پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ناصر عباس نیّرنے آزاد کے حوالے سے جو کچھ لکھاہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہو ں نے پہلی مرتبہ اس موضوع پر کچھ لکھنے کی کوشش کی اس لیے ناصر عباس نیّر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ساتھ ہی غالب انسٹی ٹیوٹ بھی قابل مبارک با دہے کہ اس نے اس کتاب پر مذاکرہ کا اہتمام کیا۔
ڈاکٹرسرورالہدی نے کہا کہ مابعد نوآبادیات کے بنیادی نکات پر ناصر عباس نیّر کی جیسی گہری نظرہے وہ اردو میں کہیں اور مشکل سے ملے گی اور اُن کے یہاں اس کی تفہیم میں کسی طرح کی جذباتیت نہیں ہے۔ عام طورپر لوگ مابعد نوبادیات کے سلسلے میں فیشن زدگی کے شکار ہیں اس ماحول میں ناصر عباس نیّر کی یہ کتاب اسکالرشپ اور احساس ذمہ داری کی ایک بڑی مثال ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے جلسہ کی نظامت کرتے ہوئے کتاب کا تعارف پیش کیا اور فرمایا کہ اردو میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے جس میں ۱۹ویں صدی کے اردو زبان و ادب کے اُن محرکات کو معروضی طریقے سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے جن کا تعلق نوآبادیاتی ذہن سے ہے۔ اس جلسہ میں بڑی تعداد میں اہل علم موجود تھے۔

غالب انسٹی ٹیوٹ میں شامِ شہریاراں میں اقبال مرزا کو خراجِ عقیدت

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہرِ یاراں کے موقع پر لندن کااہم رسالہ ’’صدا‘‘ کے مدیر ڈاکٹر اقبال
مرزاکی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک ادبی نشست کااہتمام کیاگیا، اس جلسے کی صدارت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ اقبال مرزارہتے تو لندن میں تھے مگر علمی اعتبار سے وہ ہمارے بے حد قریب تھے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سے اُن کا گہرا رشتہ تھاوہ ادارے کے ہر بڑے جلسوں میں لندن سے تشریف لاتے تھے اور اور ہم اُن کے خیالات سے مستفید ہوتے تھے۔
شاہد ماہلی نے اپنی گفتگو میں کہاکہ اقبال مرزا لندن میں رہتے تھے مگر لندن میں رہ کر لکھنوی تہذیب کی وراثت کے امین بنے ہوئے تھے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے اور اُن کی ہر کتاب کوعلمی و ادبی دنیامیں عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا گیا۔آج اقبال مرزا ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ہمیں پوری امیدکہ وہ اپنے علمی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔
اس موقع پر پروفیسر صادق نے اپنی گفتگو میں فرمایاکہ اقبال مرزا اہم شاعر نہیں تھے، اہم ادیب بھی نہیں تھے تاہم ان کی شعرگوئی اور علمیت سے انکار ممکن نہیں۔ لندن سے ماہنامہ ’صدا‘ کی ادارت ان کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔ یہ رسالہ تقریباً ۱۹برس تک پابندی کے ساتھ اپنے بل پر شایع کرتے رہے جس کی یورپ اور امریکہ میں بڑی پذیرائی ہوتی رہی۔
پروفیسر علی احمد فاطمی نے اُن کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایاکہ وہ ایک اچھے ادیب،شاعراور نہایت ہی اچھے انسان تھے۔ وہ اپنے رسالے میں اپنے اداریوں کے ذریعے اپنے نقطۂ نظر کی صحیح ترجمانی کرتے تھے۔ اسلامیات کابھی مطالعہ تھااور کئی اسلامی کتابوں کو انہوں نے ترتیب دیا۔آپ کے انتقال سے یورپ کی اردو دنیاکوبھی کافی نقصان پہنچا ہے۔
پروفیسر محمودالحسن صاحب نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اقبال مرزا کی زندگی سے وابستہ اتنی یادیں ہیں جن کو اگر لکھا جائے تو ایک کتاب تیار ہوجائے گی۔وہ لندن میں رہ کر لکھنؤ کی نمائندگی کرتے تھے۔ اور انہیں اپنی لکھنوی تہذیب پربڑا ناز تھا۔
ڈاکٹر وسیم راشد نے فرمایاکہ ڈاکٹر اقبال مرزانے لندن میں ایک بین الاقوامی سمینار میں مجھے مدعوکیاتھا، میں نے لندن پہنچ کر اس بات کامشاہدہ کیاکہ لندن میں اُن کی علمی حیثیت کتنی بلند تھی۔ وہ ایک بڑے ادیب کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی تھے۔
محترمہ نگار عظیم نے اُن کے رسالے ’صدا‘ کے تعلق سے کہاکہ اُن کے رسالے میں اچھے مضامین شائع ہوتے تھے اور انگلینڈ میں وہ رسالہ کافی مقبول تھا۔ ہندوستان کے ادیبوں کے بھی مضامین اُس میں شائع ہوتے تھے۔
اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدرنے اپنی افتتاحی گفتگو میں فرمایاکہ لندن میں رہ کراپنے رسالے ’’صدا‘‘ کے ذریعے جولوگ پورے یورپ میں اردو زبان و ادب کو فروغ دے رہے ہیں اُن میں ایک اہم نام اقبال مرزا کاتھا، مرحوم کئی کتابوں کے مصنف تھے خصوصاً آپ نے صدا کا عالمی نمبر شائع کیاتھاجوکہ ہماری ادبی دنیامیں دستاویزکی حیثیت رکھتاہے۔اس جلسے میں بڑی تعداد میں اہل علم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے موجود تھے۔

Tuesday, August 19, 2014

ڈاکٹراقبال مرزا کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیو ٹ میں تعزیتی میٹنگ

معروف ادیب،شاعر،دانشور اور ماہنامہ ’صدا‘(لندن) کے مدیر ڈاکٹر اقبال مرزا کا ۱۸اگست کو لندن میں انتقال ہوگیاآپ کے انتقال سے پوری اردو دنیامیں زبردست سوگ کا ماحول برپا ہوگیاہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ میں جیسے ہی آپ کے انتقال کی خبرپہنچی فوراً ہی تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایاکہ اقبال مرزاکی وفات اردو دنیا کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے۔لندن میں رہ کر جس سنجیدگی سے آپ اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دے رہے تھے اُس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سے آپ کا گہرا رشتہ تھاہر سال غالب انسٹی ٹیوٹ کے بین الاقوامی سمینار میں شرکت کرتے تھے اور ہم سبھی اُن کے افکارو خیالات سے مستفید ہوتے تھے۔ جناب شاہد ماہلی نے مرحوم سے اپنے دیرینہ روابط کاذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ جناب اقبال مرزاسے میرا تقریباً ۳۰ سال پرانا علمی و ادبی رشتہ تھا، وہ مجھے بے حد عزیز رکھتے تھے میں اُن کی میگزین کے مشاورتی بورڈ میں تھا۔ لندن جیسی جگہ میں رہ کراپنے رسالے کے ذریعے جس طرح سے اردو زبان و ادب کے تعلق سے وہ پورے یوروپ کی نمائندگی کررہے تھے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ اُن کے انتقال سے مجھے ذاتی طورپر بے حد صدمہ پہنچا ہے مگر موت برحق ہے اور ہرشخص کو اُس کی گرفت میں آنا ہے، مرحوم اقبال مرزا اپنے علمی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے بھی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اقبال مرزا ایک بڑے ادیب کے ساتھ ہردالعزیز اور اعلیٰ اخلاق کے حامل انسان تھے۔ وہ اپنے دوستوں اور چھوٹوں سے نہایت ہی محبت اور شفقت سے ملتے تھے۔ اپنی دانشوری سے ماہنامہ ’صدا‘ کو انہوں نے کافی بلندی تک پہنچایا۔ ہماری دعاہے کہ پروردگار عالم اُن کے درجات میں اضافہ کرے۔ اس تعزیتی جلسے میں خورشید عالم، اقبال مسعود فاروقی، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر سہیل انور، عبدالواحد،یاسمین فاطمہ،محمدعمر اور عبدالتوفیق کے علاوہ تمام اسٹاف نے شرکت کی اور رنجم و غم کا اظہار کیا۔

Monday, June 23, 2014

Sunday, June 15, 2014

مخطوطات کی اہمیت پر دو روزہ سمینارمنعقد

 غالب انسٹی ٹیوٹ اور رامپور رضالائبریری کے زیراہتمام ’’رامپور رضالائبریری اور غالب انسٹی ٹیوٹ میں موجود فارسی اور اُردو کے مخطوطات، تاریخ، ادب اور ثقافت کا مآخذ‘‘ کے موضوع پرمنعقدہونے والے سمینار کے افتتاحی اجلاس میں معروف فارسی اسکالراورانسٹی ٹیوٹ آف پرشین ریسرچ (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)کی ڈائرکٹرپروفیسرآذر میدُخت صفوی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے رام پور رضالائبریری اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے مخطوطات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ان دونوں لائبریریوں میں رکھے ہوئے مخطوطات ہماری علمی،ادبی ،تہذیبی اور تاریخی زندگی کانہایت قیمتی سرمایہ ہے۔ خصوصاً انہوں نے رضا لائبریری کے مخطوطات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں رکھے ہوئے مخطوطات اتنے نادر اور نایاب ہیں کہ اس کی مثال دنیا کے کسی خطے کی لائبریری میں کم ہی دکھائی دیتی ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایاکہ مخطوطات کی کیٹلاگ سازی کابھی پورا خیال رکھنا چاہیے۔ اور مجھے پوری امید ہے کہ مخطوطات کی افادیت پر ہونے والے اس سمینار کے اختتام کے بعد ہم اس نتیجے پر ضرورپہنچیں گے جو ہماری علمی دنیا میں کافی سودمند ثابت ہوں گے۔پروفیسر صفوی نے اپنی تقریر میں غالب انسٹی ٹیوٹ اور رضالائبریری کی تاریخی حیثیت پر بھی گفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ دونوں ادارے اپنی شاندارعمارتوں کے ساتھ ساتھ اہم علمی و ادبی امور بھی انجام دے رہے ہیں ۔ رام پور رضا لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر سید محمد عزیز الدین حسین نے اپنی افتتاحی تقریر میں رضالائبریری رام پور کے مخطوطات کی اہمیت پرگفتگو کرتے ہوئے فرمایاکہ رضا لائبریری رام پور میں موجود بیشتر مخطوطات ایسے ہیں جن کاپوری دنیامیں کوئی دوسرا نسخہ موجود نہیں ہے۔یہاں عربی،فارسی، اردو،پشتو،سنسکرت، ترکی اوردیگر زبانو ں کے تقریباً ۱۷ ہزار مخطوطات ہیں جو اپنے سرمایہ کے اعتبار سے پورے برصغیر میں امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ پروفیسر سید محمد عزیز الدین حسین نے رام پور رضالائبریری کے شائع ہوئے مخطوطات پرتبصرہ کرتے ہوئے فرمایاکہ یہاں کے بیشترمخطوطات کتابی شکل میں شائع ہوکر علمی دنیامیں کافی مقبول ہو رہے ہیں۔تاریخ فیروزشاہی اوررامائن کے ترجمہ کابھی آپ نے خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے صدارتی خطبہ میں اپنی نوعیت کے اعتبار اس منفرد سمینار پر خوشی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقیناًیہ سمینارطلبا ،ریسرچ اسکالر،اساتذہ اور اہل علم کے لیے کافی معاون ثابت ہوگا۔آپ نے یہ بھی فرمایاکہ آج بھی ہمارے ملک کے چھوٹے چھوٹے شہروں ،قصبات اوردیہات کے بیشتر گھروں میں اردو اور فارسی کی ایسی چیزیں مل جائیں گی جوہماری علمی زندگی میں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں مگر وقت اور حالات کی وجہ سے ان پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہم نے اپنے اس قیمتی ورثہ کو سنبھال کر نہ رکھاتو ہم اپنی شاندار تاریخ سے محروم ہوجائیں گے۔مشہور ماہر تعلیم اورنیشنل یونیورسٹی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر سید عرفان حبیب جو اس سمینار میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیاکہ آج بھی اس ملک میں مخطوطات کا اتنا عظیم سرمایہ موجود ہے کہ جتنا اہم اور معتبر سرمایہ دنیا کے کسی ملک میں کم ہی ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایاکہ آ ج بھی ہندستان کی بے شمار ایسی لائبریری اور ادارے موجود ہیں جہاں مخطوطات کا اہم ذخیرہ ہے مگر بے توجہی کی وجہ سے وہ تمام ذخائرتباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ذاتی ذخیرہ بھی لوگوں کے پاس کافی موجود ہیں مگر وہ تمام ذخائر انتہائی خراب حالت میں ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹرڈاکٹررضاحیدر نے اپنی گفتگو میں فرمایاکہ مخطوطات ہماری علمی ادبی، تہذیبی اور تاریخی وراثت کا اتنا عظیم سرمایہ ہے کہ اگر ہم نے ان پر توجہ نہیں دی توہم ماضی سے کٹ جائیں گے اور ہماری شناخت ختم ہوجائے گی۔آج پوری دنیامیں مخطوطات کے تحفظ پر انقلابی سطح پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے اوراس ملک میں سرکاربھی اس کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔آپ نے اس بات پر افسوس کااظہارکیاکہ ماضی میں ہماری بے توجہی کی وجہ سے ہمارے ملک کی اہم لائبریریوں اور اداروں کے مخطوطات بیرونِ ملک کی لائبریریوں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر رضاخیدر نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے مخطوطات کاتعارف کراتے ہوئے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ میں رکھے ہوئے مخطوطات علمی اعتبار سے کافی اہم ہیں اور ان پروقتاً فوقتاً تحقیق ہونے کی ضرورت ہے۔اس موقع پرشاہد ماہلی نے بھی مخطوطات کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مخطوطات کے تحفظ پر اگر ہم نے توجہ نہیں دی تو یہ تمام سرمایہ ہماری علمی اور تہذیبی زندگی سے ختم ہوجائیں گے۔ افتتاحی کے اجلاس کے بعد دو اور اجلاس ہوئے جس میں پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر ریحانہ خاتون، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر نسیم احمد نے صدارتی فریضہ کو انجام دیا اور ڈاکٹر کلیم اصغر، ڈاکٹر اخلاق احمد آہن ، جناب شاہد ماہلی ،ڈاکٹر ارشاد ندوی، محترمہ پریتی اگروال اور سیدنوید قیصرشاہ نے مقالات پیش کیے۔ ان دونوں اجلاس کی نظامت کا فریضہ ڈاکٹر کلیم اصغر اورسید نوید قیصر شاہ نے انجام دیا۔ 

سمینار کے دوسرے دن اردو وفارسی کے اہم اسکالرز نے رضالائبریری رامپوراور غالب انسٹی ٹیوٹ میں موجود مخطوطات کی اہمیت و افادیت پر اہم گفتگو کی۔ دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں ڈاکٹرقمر عالم،ڈاکٹر احتشام الدین،پروفیسر حسن عباس، ڈاکٹر شمس بدایونی، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر ریحانہ خاتون، پروفیسر چندر شیکھر،پروفیسر شریف حسین قاسمی نے رامپور رضالائبریری اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے اُن اہم مخطوطات پر گفتگو کی جو ہماری علمی، ادبی، تہذیبی اور تاریخی وراثت کااہم مآخذ ہیں۔ خصوصاً پروفیسر چندر شیکھر، پروفیسر عراق رضا زیدی اور پروفیسر شریف حسین قاسمی نے اپنی عالمانہ گفتگو میں اس بات پرزور دیاکہ اگر ہم نے اپنے اس قیمتی ورثے کی حفاظت نہیں کی تو ہم اپنی شاندار تہذیب و راثت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجائیں گے۔اس اجلاس کی صدارت پروفیسر آذر میدُخت صفوی اور پروفیسر سیدمحمد عزیز الدین حسین نے کی اور نظامت کافریضہ ڈاکٹر شعیب رضا خاں نے انجام دیا۔سمینار کے آخری اجلاس میں ہیمنت شکلا، محترمہ ساجدہ شیروانی، ڈاکٹر تبسم صابر، ڈاکٹر مشتاق تجاروی، ڈاکٹر وسیم بیگم اور پروفیسر نسیم احمد نے مقالات پیش کیے۔ اس اجلاس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ڈاکٹر وسیم نے۴۰۰صفحات پر مشتمل غالب انسٹی ٹیوٹ سے شائع ’’دیوانِ عارف‘‘ کا جائزہ لیا جسے آپ نے خود ترتیب دیاہے۔اس اجلاس میں ڈاکٹر شمس بدایونی، پروفیسر حسن عباس اور پروفیسر 
چندرشیکھر نے صدارتی فریضے کو انجام دیااور نظامت ڈاکٹر سہیل انورنے کی۔
ان تمام مقالات میں اسکالرز کابنیادی مقصد یہ رہاکہ وہ جہاں ان دونوں علمی مراکز کے امتیازی قلمی نسخوں کا تعارف کرائیں وہاں ان کے مطالب و مشمولات کی سماجی، تہذیبی اور تاریخی اہمیت و مناسبت پر روشنی بھی ڈالی۔ ان مقالات پر بحث و مباحثہ بھی ہواجس سے یہ نتیجہ نکلاکہ یہ علمی و ادبی و تاریخی مآخذ خاص طورپر ہمارے قرون وسطی کی زندگی کے ہر پہلو کو روشن کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ہمارے ادب کی گوناگونیت اور اس کا تنوع اور سارے ہندستان میں اس کے رواج و اثرات پربھی گفتگو ہوئی۔ بعض ایسی کتابوں کا بھی اسکالرز نے اپنے مضامین میں ذکرکیاجن میں ہماری سماجی رسموں کا تفصیل سے ذکر ملتا ہے۔ان دو دنوں میں دہلی اور بیرونِ دہلی کے ریسرچ اسکالرز، اساتذہ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے اہم افراد نے شرکت کی اس اہم سمینار میں پاکستانی سفارت خانے کے چنداہم سفارت کاربھی موجود تھے اوردونوں دن اردو فارسی و تاریخ کے علما وفضلاکی عالمانہ گفتگو سے مستفید ہوئے۔ سمینار کا اختتام رضالائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر سید محمد عزیز 
الدین اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدرکے اظہار تشکر سے ہوا۔







Saturday, May 24, 2014

غالب انسٹی ٹیوٹ میں فخرالدین علی احمدمیموریل لکچرکاانعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ۲۴ مئی کو ’’ہندستان کی قومی تحریک کی تاریخ پرمختلف نظریات‘‘کے موضوع پرفخرالدین علی احمدمیموریل لکچرمنعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ممتاز مؤرخ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ایمریٹس عرفان حبیب نے فرمایاکہ قومی تحریک ہندستان کی اہم تحریکوں میں سے ایک ہے اور اس تحریک کی اہمیت کوکبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ قومی تحریک کے بارے میں مؤرخوں کے درمیان جو موضوعات ہیں ان پر بحث کی جانی چاہیے، ۱۸۸۵ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی ابتدا کے بعد قومی تحریک کے مخالفین میں کیا تصور تھااوراب قومی تحریک کاکیا نظریہ ہونا چاہیے اس پر خاطر خواہ روشنی ڈالی جانی چاہیے۔آپ نے مزید کہاکہ روشن خیال لوگوں کی نظر میںیہ تحریک اصلاحی تحریک تصور کی جاتی تھی۔ اس ضمن میں آپ نے گاندھی جی اور مختلف مفکرین کے نقطۂ نظر پر بھی مختصراً روشنی ڈالی۔ قومی تحریک کی افادیت کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ تحریک ایک مشن تھی جوسرمایہ داروں کے تصور کی نفی کرتی ہے اور کسانوں اور مزدوروں کو اس کااپناحق دلانے کی تائید کرتی ہے۔ بعض مؤرخوں کے نقطۂ نظر کاحوالہ دیتے ہوئے آپ نے کہاکہ اس تحریک نے دو قومی نظریہ کی بھی نقطہ چینی کی تھی۔ برٹش رول ان انڈیا۱۹۳۴ء میں اربندوگھوش کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہندستان کے لوگوں کااصول تشدد نہیں ہے بلکہ شکتی ہے۔لیکن بدقسمتی سے بعض سخت گیر تنظیموں نے ہندستان کے بجائے ہندوستھان کانعرہ دیا جس نے قومی تحریک کے مشن کونقصان پہنچایا۔پروفیسر عرفان حبیب نے اپنے اختتامی کلمات میں یہ بھی کہاکہ موجودہ دورمیں قومی تحریک کوسمجھنے اور سمجھانے کی بیحد ضرورت ہے۔اگرہم نے قومی تحریک کے اصول و نظریات سے لوگوں کو واقف نہ کرایاتویہ تحریک بھی دم توڑ دے گی۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے افتاحی کلمات میں کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیاں بہت محدود تھیں لیکن اب اس کے موضوعات کو وسیع کیاگیا۔ مختلف نظریات،پہلوؤں اور روایتوں کے موضوعات پرلکچر کرایا جاچکاہے اور کرایا جارہاہے۔ پروفیسر عرفان حبیب کاذکر کرتے ہوئے آپ نے کہاکہ پروفیسر عرفان حبیب کی کی تحریریں، اور تقریریں اتنی اہم ہیں کہ اور ان سے ہندستان اوردیگر ممالک کے اسکالرز استفادہ کرتے ہیں اورآپ اپنے عہد کی تاریخ کو بہت خلوص کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر پرویز علی احمد،وائس چیئرمین،غالب انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ پروفیسر عرفان حبیب کے اس لکچر سے موجودہ صورت حال اور قومی تحریک کو سمجھنے میں ضرورمددملے گی۔پروفیسر عرفان حبیب کی دانشوری کاذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز نے مزید کہاکہ آپ کے اہم لکچرز ملک اوربیرونِ ملک میں بھی بڑے قدر کی نگاہوں سے پڑھے اور سنے جاتے ہیں۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدر نے نظامت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے فخرالدین علی احمد میموریل لکچر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ فخرالدین احمد لکچرغالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کاایک اہم حصہ ہے۔اس موقع پرملک کے اہم دانشوروں اورمؤرخوں نے اپنے خیالات کااظہارکیاہے۔اور آج پروفیسر عرفان حبیب کی موجودگی نے اس لکچر کے وقار میں اضافہ کیاہے۔اس لکچر میں دہلی ہائی کورٹ کے جج اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ٹرسٹی جسٹس بدر دُرریزاحمدکے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ،جواہر لعل نہرو،دلی یونیورسٹی،اوردلی یونیورسٹی کے کالجوں کے اردو ،فارسی اورتاریخ کے اساتذہ،اسکالرز اورطلبا کے علاوہ وکلاء،دہلی ہائی کورٹ کے ججز اور مختلف علوم و فنون کے افراد کثیر تعداد میں موجود تھے۔  
تصویر میں دائیں سے: ڈاکٹر رضاحیدر، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر عرفان حبیب، ڈاکٹر پرویز علی احمد، جسٹس بدر دُرریزاحمد











Wednesday, May 7, 2014

پروفیسرشمس الرحمن فاروقی کا غالب توسیعی خطبہ

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام ۶ مئی کو ’’غالب توسیعی خطبہ‘‘ کے موقع پر ممتازادیب و دانشوراور ماہرِ غالبیات پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے
’’غالب کے غیر متداول دیوان‘‘ کے موضوع پر خطبہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ غالب کا غیر متداول دیوان ایک عرصے سے لوگوں کی توجہ کا اس طرح مرکز نہیں ہے جیسے اُسے ہونا چاہئے۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب نے یہ سوالات بھی اٹھائے کہ غیر متداول دیوان میں جو کلام موجود ہے اور جس کے بارے میں غالب نے یہ لکھاہے کہ انہو ں نے اس کلام کو مسترد کردیاتھاوہ مسترد کلام اصلاً کس کا رد کیاہواہے۔ آپ نے مزید فرمایاکہ یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ غالب نے اپنی عمرکے آخری حصّے میں مشکل گوئی ترک کردی اور میرکا انداز اختیار کرلیایہ بات بھی سراسر غلط ہے کیونکہ غالب کا تمام معروف اور مشہورکلام اُن کے ابتدائی زمانے کا کہاہوا ہے۔اس سے قبل غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے پروفیسر شمس الرحمن فار وقی کااستقبال کرتے ہوئے کہاکہ آپ اس عہدکے بڑے ماہرِ غالبیات میں سے ہیں۔ غالب پر آپ نے جو کچھ تحریر کیااُسے علمی و ادبی حلقوں میں کافی پسند کیاگیا۔ آپ کی کتاب’’تفہیم غالب‘‘ غالب فہمی میں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے یہ بھی فرمایاکہ ’’غالب کے غیر متداول دیوان‘‘ پر آپ کی جوبھی گفتگو ہوئی اُس سے یقیناًغالب تحقیق و تنقید میں ایک اہم اضافہ ہوگا۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے معروف غالب شناس ڈاکٹر خلیق انجم نے پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے عالمانہ خطبے پر انہیں مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ غالب کے غیر متداول دیوان کے تعلق سے اردو اور فارسی کے ادیبوں کے ذہنوں میں شک و شبہات اور غلط فہمیاں ہیں آپ کے اس خطبے کے بعد ختم ہوجائیں گی۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے علمی و ادبی مرتبے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ اردو زبان و ادب خصوصاً غالبیات کے حوالے سے آپ کی کاوشوں کو اردو دنیامیں ہمیشہ عزت و احترام کی نظروں سے دیکھاجائے گا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے جلسے کی نظامت کرتے ہوئے غالب توسیعی خطبہ کی تاریخی حیثیت پرروشنی ڈالا اور کہاکہ غالب توسیعی خطبہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی ایک اہم پہچان ہے ملک اور بیرون ملک کے کئی بڑے ادیبوں نے غالب توسیعی خطبہ پیش کیاہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ پروفیسر شمس الرحمن فاروقی ایک ایسے موضوع پر خطبہ پیش کر رہے ہیں جس پر کم گفتگو ہوئی ہے ہمیں پوری امید ہے کہ آپ کے اس خطبے سے غالب کے غیر متداول کلام کی اہمیت کوبھی ہم سمجھ سکتے ہیں۔ شاہد ماہلی نے پروفیسر شمس الرحمن فاروقی اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے خطبے سے ہمارے علم میں اضافہ ہوااور ادارے کا وقار بھی بڑھا ہے۔اس موقع پر پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کی اہم کتاب’’تفہیم غالب‘‘ کے تیسرے ایڈیشن کی رسمِ رونمائی بھی ہوئی۔ جلسے میں امریکہ کے اہم ڈاکٹر اور اردو کے ادیب جناب سیدامجد حسن بھی موجود تھے جنہیں غالب انسٹی ٹیوٹ کی کتابوں کا تحفہ پیش کیاگیا۔ اس کے علاوہ پروفیسر شمیم حنفی، ڈاکٹر اسلم پرویز، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر شمس الحق عثمانی،ڈاکٹر خالد علوی، ڈاکٹر خالد اشرف، ڈاکٹر اخلاق احمد آہن، پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر عراق رضازیدی، ڈاکٹر اطہر فاروقی، اے رحمان، ڈاکٹر اشفاق عارفی، ڈاکٹر شعیب رضا خاں، ڈاکٹر احمد محفوظ، ڈاکٹر نجمہ رحمانی، ڈاکٹر ارجمند، ڈاکٹر نشاں زیدی، ڈاکٹر جاوید رحمانی، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر سہیل انور، مسعود فاروقی کے علاوہ بڑی تعداد میں 
اہل علم موجود تھے۔