Monday, November 10, 2014

لیفٹنٹ گورنر جناب نجیب جنگ کی غالب انسٹی ٹیوٹ میں آمد

دلّی کے لیفٹنٹ گورنر عزت مآب جناب نجیب جنگ کی غالب انسٹی ٹیوٹ میں آمد پر ادارے کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، وائس چیرمین ڈاکٹر پرویز علی احمداور ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدرنے لیفٹنٹ گورنر کاپرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر محترم لیفٹنٹ گورنر کی خدمت میں ادارے کی اہم مطوعات پیش کی گئیں۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور ڈاکٹر رضاحیدرنے لیفٹنٹ گورنر سے غالب انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ ادارہ پچھلے۴۵برسوں سے غالب، معاصرین غالب، کلاسیکی ادب، ملک کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت پر بڑے اہم کام کررہاہے۔خصوصاً اس ادارے نے دلّی کی تاریخ و تہذیب پر بھی کئی اہم کتابیں شائع کی ہیں اور سمینار کا اہتمام کیا ہے۔ ادارے نے اب تک ۲۰۰ سے زیادہ قومی اور بین الاقوامی سمینار اور ۳۰۰سے زیادہ کتابیں بھی شائع کی ہیں۔ محترم لیفٹنٹ گونر نے اپنے ۴۵منٹ کے سفرمیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے میوزیم، لائبریری، آڈیٹوریم اور نادر مخطوطات کو دیکھا۔ اپنے تاثرات میں لیفٹنٹ گورنر نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے علمی و ادبی کاموں کی بھرپور ستائش کی اور امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں یہ ادارہ نہ صرف غالبیات بلکہ اردو زبان و ادب اور دلّی کی تہذیب و تاریخ کے فروغ میں اہم کردار اَدا کرے گا۔
تصویر میں:کتابوں کا تحفہ دیتے ہوئے :سید رضاحیدر،عزت مآب نجیب جنگ،ڈاکٹر پرویز علی احمد،پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی

Sunday, October 12, 2014

امیر خسرو سمینارکا ایوانِ غالب میں انعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل امیر خسرو سوسائٹی کے زیراہتمام ’’امیر خسرو کی دلّی : تاریخی اور سماجی منظرنامہ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے سمینار کے افتتاحی اجلاس میں امیر خسرو سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر خلیق انجم نے اس سمینار کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایاکہ امیر خسرو ہماری علمی و ادبی تاریخ اتنے عظیم شاعر ہیں کہ جن پر بہت کم علمی کام ہواہے۔ امیر خسرو کے کلام کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ وہ ہندوستان سے بہت محبت کرتے تھے اور انہوں نے اس ملک کی تہذیب و ثقافت کو جس خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے وہ ہماری تاریخ کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے خسرو سے متعلق اُن کتابوں کابھی ذکرکیاجو کتابیں تفہیم خسرو میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ معروف فارسی ادیب پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ خسرو جتنے ہندستان میں مقبول ہیں اتنے ہی زیادہ بیرونِ ہند میں مقبول ہیں۔ امیر خسرو آج بھی بیرون ملک میں ثقافتی سفیر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ خسر ونے دلی کی تاریخ اور دلی کی ثقافت کو اتنے وسیع پیمانے پر پیش کیاہے کہ آج ہم بغیر خسرو کے دلّی کی تاریخ کو نہیں سمجھ سکتے۔ آپ نے مزیدکہاکہ خسرو نے دلّی کی تاریخ کو محض شاعری کے پیرائے میں نہیں پیش کیاہے بلکہ وہ تمام باتیں حقیقت پر مبنی ہیں۔
اس جلسے کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ امیرخسرو ہمارے اُن بڑے شاعرو ں میں ہیں جن کاکلام آج بھی ہماری علمی رہنمائی کررہاہے۔ غالب بھی خسرو کے چشمۂ فکر سے مسلسل فیض یاب ہوتے رہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم آنے والے دنوں میں امیر خسرو پر بڑے جلسے منعقد کریں گے تاکہ آج کے دور میں ہم خسرو کوصحیح طریقے سے روشناس کراسکیں۔ ایران کلچر ہاؤس کے کلچرل کاؤنسلر علی فولادی جو اس جلسے میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے آپ نے فرمایاکہ خسرو کے کلام کو ایران میں کافی پڑھا جاتاہے اور خسرو کو اتنی ہی عزت دی جاتی ہے جتنی ایرانی شعراکو، آپ نے امیر خسرو کو قومی یکجہتی کا علمبردار اور انسانیت کا امین بتایا۔ نیشنل امیر خسرو سوسائٹی کے جنرل سکریٹری شاہد ماہلی نے امیر خسرو سوسائٹی کی تاریخ کو پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ سوسائٹی پچھلے کئی برسوں سے کافی اہم کام انجام دے رہی ہے۔ کئی بڑے لوگ اس سوسائٹی سے وابستہ تھے اور انہو ں نے کافی اہم کام کیاے۔ آنے والے دنو ں میں ہم بھی اس سوسائٹی کے ذریعے امیر خسرو پر کئی علمی کام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر سید رضاحیدر نے اپنی ابتدائی گفتگو میں کہاکہ خسرو کی دلّی کی تاریخ اور دلّی کے سماجی منظرنامے سے اتنی وابستگی تھی کہ ہم خسرو کو دلّی کے بغیر اور دلّی کو خسرو کے بغیر تصور ہی نہیں کرسکتے ہیں۔ افتتاحی جلسے کے بعد ملک کے معروف کلاسیکی سنگر استاد اقبال احمد خاں نے کلام خسرو اپنی خوبصورت آواز میں پیش کیا۔ اس جلسے میں بڑی تعداد میں اہل علم ، ادبا اور اسکالرز موجود تھے۔
سمینار کے دوسرے دن امیر خسرو کی زندگی، شاعری اور عہدِ خسرو کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ پر دلّی اور بیرونِ دلّی کے علماء نے اپنے پُرمغز مقالات پیش کئے۔دوسرے دن کے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر شریف حسین قاسمی اور پروفیسر علی احمد فاطمی نے کی، اس اجلاس میں ڈاکٹر قمر عالم، پردیب خسرو، ڈاکٹر نکہت فاطمہ، ڈاکٹر علیم اشرف، ڈاکٹر احسن الظفر اور پروفیسر عبدالقادرجعفری نے مقالات پیش کئے۔ اس اجلاس کی نظامت کا فریضہ ڈاکٹر عمیر منظر نے انجام دیا۔
دوسرے اجلاس میں پروفیسر چندرشیکھر، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر علی احمدفاطمی، ڈاکٹرسرفراز احمد خان، ڈاکٹر عمیر منظر اور پروفیسر صادق نے خسرو کی تصانیف اور عہد خسرو کی دلّی کے ہر پہلو پر اپنے خیالات کا اظہارکا۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور پروفیسر عبدالقادر جعفری نے کی اور نظامت کے لئے ڈاکٹر احتشام الدین کو زحمت دی گئی۔ سمینار کا آخری اجلاس پروفیسر صادق اور پروفیسر چندرشیکھر کی صدارت میں ہوااور اس اجلاس میں ڈاکٹر فوزیہ وحید، ڈاکٹرارشاد نیازی، ڈاکٹر احتشام الدین، ڈاکٹرسکینہ اور ڈاکٹر رفاق احمدنے مقالات پیش کئے۔ نظامت ڈاکٹر سرفراز احمد خاں کی تھی۔ اِن تینوں اجلاس میں خسرو نے دہلی کے بارے میں جو اطلاعات اپنے مختلف آثار میں فراہم کی ہیں، ان کے بارے میں تحقیقی مقالات پیش کیے گئے۔ خسرو نے اپنے دور تک دہلی کی سیاسی، ثقافتی اور ادبی تاریخ کو بڑی توجہ سے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ یہ تمام ہی موضوعات سمینار کے مختلف مقالات میں بحث کا موضوع بنے۔مقالات کے بعد جوبحث و مباحثہ ہوا، اس کی وجہ سے یہ موضوعات زیادہ وضاحت سے روشنی میں آئے۔آخر میں نیشنل امیر خسرو کے جنرل سکریٹری شاہد ماہلی نے تمام سامعین اور مقالہ نگار حضرات کافرداً فرداب شکریہ ادا کیا۔اس سمینار میں بڑی تعداد میں مختلف علوم و فنون کے افراد موجود تھے۔

Wednesday, October 8, 2014

بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے 
بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار۲۶،۲۷،۲۸ستمبر کو ایوانِ غالب میں منعقد ہوا۔ جس میں ملک و بیرون ملک کی مختلف دانشگاہوں سے اسکالرز نے شرکت کی۔ سمینار کا افتتاح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کیا۔ پروفیسر طلعت احمد نے افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان پڑھے اور سمجھے تاکہ اس کاتحفظ اور وقار بلند و بالا ہو۔ ریسرچ اسکالرز کو محنت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیاری تحقیق ممکن ہو۔اگر وہ ابھی محنت کریں گے تو آگے چل کرایک بہترادیب کی صف میں ان کا شمار ہوسکے گا۔اس موقع پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ آج ہم ان سے مخاطب ہیں جو اردو زبان و ادب کے مستقبل ہیں۔ اردو کے نئے امکانات انہیں اسکالروں سے وابستہ ہیں۔یہی نوجوان اردو اداروں کے اساتذہ اور افسران ہوں گے۔ ریسرچ اسکالرز سمینار غالب انسٹی ٹیوٹ کی شناخت بن چکا ہے اورقومی کونسل کی بھی مستقل یہی کوشش ہے کہ دیگر اداروں کے اشتراک سے اہم سمینار اور پروگرام منعقد کراتا رہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدر نے دوران نظامت گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ گزشتہ چالیس برسوں سے غالب،عہدِ غالب اور معاصرین غالب کے حوالے سے کارہائے نمایاں انجام دیتا رہا ہے۔ تقریباً سوسمیناراورتین سو کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ ریسرچ اسکالر سمیناراہمیت کاحامل ہوچکاہے اب ایک دن کے بجائے تین دنوں تک اسکالروں کو اپنے خیالات پیش کرنے کاموقع ملے گا۔ اس بین الاقوامی سمینار کا دائرہ وسیع ہونے کی واحد وجہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کاتعاون ہے۔ عہد حاضر کے ممتاز نقادپروفیسر عتیق اللہ نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہاکہ اسکالرسمینار کافی اہمیت و افادیت کاحامل ہے جس میں ہندستان کی اور بیرونِ ملک کی مختلف دانشگاہوں سے ریسرچ اسکالرز شرکت کرتے ہیں۔اساتذہ اورریسرچ اسکالروں کوسنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے،اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اسکالروں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہیں موضوع دیں۔ ریسرچ اسکالروں کوفارسی بھی سیکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ زیادہ تر سرمایہ فارسی میں محفوظ ہیں۔فارسی زبان و ادب کے معتبراسکالرپروفیسرشریف حسین قاسمی نے بھی کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہاکہ کچھ کام اساتذہ کو سنجیدگی سے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبا کی تربیت ممکن ہوسکے۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر معیاری تحقیقی کام کی اہم وجہ تربیت کا نہیں ہونا ہے۔ سمینار کے افتتاحی اجلاس میں موجودپاکستان کے کارگزارہائی کمشنر منصورعلی خاں نے کہاکہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کوخود سے کافی قریب محسوس کرتا ہوں کیونکہ یہ ادارہ اردو کے تئیں اہم کردار ادا کر رہاہے۔ آخرمیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اسکالروں میں سہل پسندی آگئی ہے جبکہ محنت و لگن کی ضرورت ہے۔ ادب بھی تنہا ادب نہیں رہ سکتااگر دیگر علوم سے فائدہ نہیں اٹھایا جائے۔ ریسرچ میں اپنے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سمینار کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریسرچ اسکالروں کویہ اختیار حاصل رہتا ہے کہ وہ اپنے مقالے ایم فِل یا پی ایچ ڈی کے موضوع کے حوالے سے ہی پیش کرسکتے ہیں۔ شاہد ماہلی نے اظہار تشکر ادا کرتے ہوئے کہاکہ ریسرچ اسکالرز سمینار تمام اسکالرز کے لیے بہت مبارک ہے اس لیے کہ جس ریسرچ اسکالر نے یہا ں مقالہ پیش کیا آج وہ اردو کا بڑا ادیب ہے۔اس سمینار میں ہندستان کی اہم یونیورسٹیوں کے اردو اور فارسی ریسرچ اسکالرز کے علاوہ پاکستان کے بھی ریسرچ اسکالرز نے شرکت کی۔ابوہریرہ، شیبا حیدر،ضیاء الرحمن، دھرم ویر وسنگھ،محمد آصف ملک، شاہنواز احمد اجے کمار، کہکشاں فلک،حیدر علی، محمد احتشام الحسن، رحمت یونس، رفعت مہدی رضوی، عزیز احمد، زیبا فاروقی، سعدالدین،محمد ایوب، جمیلہ بی بی، منہاج الدین، منت اللہ صدیقی، زبیر احمد، انو میاں،ایاز احمد، ارشد جمیل،محمد حذیفہ، عبدالرحیم،ذاکرحسین،سعدیہ جعفری،عبدالکریم،سفینہ، فاطمہ پروین،یاسر عباس،عرشِ منیر، شفیق انور،نغمہ نگار، علی ابراہیم آرزو، عندلیب عمر کے علاوہ پاکستان سے سعدیہ سرور،ارساکوکب اور صائمہ ارم نے مقالات پیش کیے۔ان تین دنوں میں صدارتی فریضہ کے لیے پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی،ڈاکٹر خلیق انجم، شاہد ماہلی،پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر علی احمد فاطمی،پروفیسر صادق، پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر بلقیس فاطمہ حسینی، پروفیسر چندر شیکھر، ڈاکٹر خالد علوی،پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر ابنِ کنول، پروفیسر عبدالقادر جعفری، پروفیسر توقیر احمد خاں،پروفیسر ارتضیٰ کریم، ڈاکٹر شعیب رضا خاں، ڈاکٹر اطہر فاروقی،ڈاکٹر ثروت خان، پروفیسر انورپاشا، پروفیسر عین الحسن اور پروفیسر معین الدین جینابڈے موجود تھے۔اس سمینار میں ۹اجلاس منعقد ہوئے جس میں عبدالسمیع،محضر رضا، نوشاد منظر، رفعت مہدی رضوی،سفینہ، نورین علی حق،عینین علی حق،شاہنواز فیاض اورافسانہ حیات نے نظامت کا فریضہ انجام دیا۔ اختتامی اجلاس پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پروفیسر ابن کنول،شاہد ماہلی،صائمہ ارم،ڈاکٹر خلیق انجم، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کے علاوہ ڈاکٹر رضاحیدرنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سمینار کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ ان تین دنوں میں ۶۰سے زیادہ ریسرچ اسکالرز نے بحث و مباحثہ میں حصہ لیا جن کوبطور خاص مدعو کیاگیا تھا۔غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے سمینار میں تمام مقالہ نگاروں کوادارے کی اہم کتابوں کاتحفہ اورتمام ریسرچ اسکالرز کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس سمینار میں دلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تقریباً ساڑھے تین سو ریسرچ اسکالرز کے علاوہ بڑی تعداد میں ایم۔اے کے طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
اختتامی اجلاس کی تصویر میں دائیں سے: ڈاکٹر سیدرضاحیدر،پروفیسر محمد خواجہ محمد اکرام الدین، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی،شاہد ماہلی اورڈاکٹر صائمہ ارم

Tuesday, September 2, 2014

ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی کتاب ’’مابعدنوآبادیات۔اردو کے تناظر میں‘‘پرایک مذاکرے کااہتمام

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہرِ یاراں کے موقع پرپاکستان کے ممتاز نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی کتاب ’’مابعدنوآبادیات۔اردو کے تناظر میں‘‘پرایک
مذاکرے کااہتمام کیاگیا۔ اس مذاکرے کی صدارت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ ناصر عباس نیّر اردو کے ایک اہم نقّاد ہیں، اُن کی اس اہم کتاب پر مذاکرے سے ہمیں اس لئے بھی خوشی محسوس ہورہی ہے کہ اس کو پڑھ کر ہمیں مابعد نوآبادیاتی مسائل کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ آپ نے مزید فرمایاکہ یہ کتاب ہماری علمی دنیا میں اس لئے اہمیت کی حامل ہے کہ یہ اپنے موضوع کے اعتبار سے اردو کی پہلی کتاب ہے۔
اس جلسے کے مہمانِ خصوصی پروفیسر شمیم حنفی نے اپنی گفتگو میں کہا نئے خیال کے بارے میں سوچنا نئی زندگی کا پتہ دینا ہے۔ آتش رفتہ کے سراغ نے ہمیں ذہنی بیماری کی صورت میں مبتلا کردیاہے۔ ۱۹ویں صدی اتنی پیچیدہ صدی ہے کہ اس سے سرسری نہیں گزرا جاسکتا۔ ناصر عباس نیّر نے اپنی ادبی روایت کو جدید عناصرکی روشنی میں سب سے عمدہ طریقے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بہت غیر معمولی اور پختہ ذہن رکھنے والے اسکالر ہیں۔ ناصر عباس نیّر علمی شرائط اور تقاضوں کو کبھی نظرانداز نہیں کرتے۔اس کتاب کوپڑھے بغیر ہم آج کے آشوب کو نہیں سمجھ سکتے۔
پروفیسر شافع قدوائی نے کہاکہ مابعد نوآبادیات پر گفتگو کاآغازتو ناصرعباس نیّر نے نہیں کیا مگر سب سے سے زیادہ مضامین انہوں نے ہی لکھے ہیں۔ علم کاجوکھیل ہے دراصل وہ طاقت کا کھیل ہے فاتح قوم اپنی مفتوح قوم کے سامنے ثقافتی ایجنڈا پیش کرتی ہے۔ ناصر عباس نے ان تمام پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ ناصر عباس نیّر نے آزاد اور سرسید کی تحریوں کا بہت سنجیدگی سے مطالعہ کیاہے۔
فرحت احساس نے فرمایاکہ اردو میں تنقیدی رجحانات کو جذب کرنے کے بجائے اگلنے کی کوشش عام رہی ہے ناصر عباس نیّر نے مغربی چیزوں کو اگلنے یا ہوبہو پیش کرنے کے بجائے شفافیت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ جب کچھ لکھتے ہیں تو وہ ہرجگہ موجود رہتے ہی۔ وہ صرف مرکز میں ہی نہیں اس کے مضافات کا بھی احاطہ کرتے ہیں۔
خالدعلوی نے ناصر عباس کی کتاب میں شامل مضامین پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ناصر عباس نیّرنے آزاد کے حوالے سے جو کچھ لکھاہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہو ں نے پہلی مرتبہ اس موضوع پر کچھ لکھنے کی کوشش کی اس لیے ناصر عباس نیّر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ساتھ ہی غالب انسٹی ٹیوٹ بھی قابل مبارک با دہے کہ اس نے اس کتاب پر مذاکرہ کا اہتمام کیا۔
ڈاکٹرسرورالہدی نے کہا کہ مابعد نوآبادیات کے بنیادی نکات پر ناصر عباس نیّر کی جیسی گہری نظرہے وہ اردو میں کہیں اور مشکل سے ملے گی اور اُن کے یہاں اس کی تفہیم میں کسی طرح کی جذباتیت نہیں ہے۔ عام طورپر لوگ مابعد نوبادیات کے سلسلے میں فیشن زدگی کے شکار ہیں اس ماحول میں ناصر عباس نیّر کی یہ کتاب اسکالرشپ اور احساس ذمہ داری کی ایک بڑی مثال ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے جلسہ کی نظامت کرتے ہوئے کتاب کا تعارف پیش کیا اور فرمایا کہ اردو میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے جس میں ۱۹ویں صدی کے اردو زبان و ادب کے اُن محرکات کو معروضی طریقے سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے جن کا تعلق نوآبادیاتی ذہن سے ہے۔ اس جلسہ میں بڑی تعداد میں اہل علم موجود تھے۔

غالب انسٹی ٹیوٹ میں شامِ شہریاراں میں اقبال مرزا کو خراجِ عقیدت

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہرِ یاراں کے موقع پر لندن کااہم رسالہ ’’صدا‘‘ کے مدیر ڈاکٹر اقبال مرزاکی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک ادبی نشست کااہتمام کیاگیا، اس جلسے کی صدارت کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے فرمایاکہ اقبال مرزارہتے تو لندن میں تھے مگر علمی اعتبار سے وہ ہمارے بے حد قریب تھے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سے اُن کا گہرا رشتہ تھاوہ ادارے کے ہر بڑے جلسوں میں لندن سے تشریف لاتے تھے اور اور ہم اُن کے خیالات سے مستفید ہوتے تھے۔
شاہد ماہلی نے اپنی گفتگو میں کہاکہ اقبال مرزا لندن میں رہتے تھے مگر لندن میں رہ کر لکھنوی تہذیب کی وراثت کے امین بنے ہوئے تھے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے اور اُن کی ہر کتاب کوعلمی و ادبی دنیامیں عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا گیا۔آج اقبال مرزا ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ہمیں پوری امیدکہ وہ اپنے علمی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔
اس موقع پر پروفیسر صادق نے اپنی گفتگو میں فرمایاکہ اقبال مرزا اہم شاعر نہیں تھے، اہم ادیب بھی نہیں تھے تاہم ان کی شعرگوئی اور علمیت سے انکار ممکن نہیں۔ لندن سے ماہنامہ ’صدا‘ کی ادارت ان کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔ یہ رسالہ تقریباً ۱۹برس تک پابندی کے ساتھ اپنے بل پر شایع کرتے رہے جس کی یورپ اور امریکہ میں بڑی پذیرائی ہوتی رہی۔
پروفیسر علی احمد فاطمی نے اُن کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایاکہ وہ ایک اچھے ادیب،شاعراور نہایت ہی اچھے انسان تھے۔ وہ اپنے رسالے میں اپنے اداریوں کے ذریعے اپنے نقطۂ نظر کی صحیح ترجمانی کرتے تھے۔ اسلامیات کابھی مطالعہ تھااور کئی اسلامی کتابوں کو انہوں نے ترتیب دیا۔آپ کے انتقال سے یورپ کی اردو دنیاکوبھی کافی نقصان پہنچا ہے۔
پروفیسر محمودالحسن صاحب نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اقبال مرزا کی زندگی سے وابستہ اتنی یادیں ہیں جن کو اگر لکھا جائے تو ایک کتاب تیار ہوجائے گی۔وہ لندن میں رہ کر لکھنؤ کی نمائندگی کرتے تھے۔ اور انہیں اپنی لکھنوی تہذیب پربڑا ناز تھا۔
ڈاکٹر وسیم راشد نے فرمایاکہ ڈاکٹر اقبال مرزانے لندن میں ایک بین الاقوامی سمینار میں مجھے مدعوکیاتھا، میں نے لندن پہنچ کر اس بات کامشاہدہ کیاکہ لندن میں اُن کی علمی حیثیت کتنی بلند تھی۔ وہ ایک بڑے ادیب کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی تھے۔
محترمہ نگار عظیم نے اُن کے رسالے ’صدا‘ کے تعلق سے کہاکہ اُن کے رسالے میں اچھے مضامین شائع ہوتے تھے اور انگلینڈ میں وہ رسالہ کافی مقبول تھا۔ ہندوستان کے ادیبوں کے بھی مضامین اُس میں شائع ہوتے تھے۔
اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹررضاحیدرنے اپنی افتتاحی گفتگو میں فرمایاکہ لندن میں رہ کراپنے رسالے ’’صدا‘‘ کے ذریعے جولوگ پورے یورپ میں اردو زبان و ادب کو فروغ دے رہے ہیں اُن میں ایک اہم نام اقبال مرزا کاتھا، مرحوم کئی کتابوں کے مصنف تھے خصوصاً آپ نے صدا کا عالمی نمبر شائع کیاتھاجوکہ ہماری ادبی دنیامیں دستاویزکی حیثیت رکھتاہے۔اس جلسے میں بڑی تعداد میں اہل علم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے موجود تھے۔

Tuesday, August 19, 2014

ڈاکٹراقبال مرزا کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیو ٹ میں تعزیتی میٹنگ

معروف ادیب،شاعر،دانشور اور ماہنامہ ’صدا‘(لندن) کے مدیر ڈاکٹر اقبال مرزا کا ۱۸اگست کو لندن میں انتقال ہوگیاآپ کے انتقال سے پوری اردو دنیامیں زبردست سوگ کا ماحول برپا ہوگیاہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ میں جیسے ہی آپ کے انتقال کی خبرپہنچی فوراً ہی تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایاکہ اقبال مرزاکی وفات اردو دنیا کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے۔لندن میں رہ کر جس سنجیدگی سے آپ اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دے رہے تھے اُس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سے آپ کا گہرا رشتہ تھاہر سال غالب انسٹی ٹیوٹ کے بین الاقوامی سمینار میں شرکت کرتے تھے اور ہم سبھی اُن کے افکارو خیالات سے مستفید ہوتے تھے۔ جناب شاہد ماہلی نے مرحوم سے اپنے دیرینہ روابط کاذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ جناب اقبال مرزاسے میرا تقریباً ۳۰ سال پرانا علمی و ادبی رشتہ تھا، وہ مجھے بے حد عزیز رکھتے تھے میں اُن کی میگزین کے مشاورتی بورڈ میں تھا۔ لندن جیسی جگہ میں رہ کراپنے رسالے کے ذریعے جس طرح سے اردو زبان و ادب کے تعلق سے وہ پورے یوروپ کی نمائندگی کررہے تھے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ اُن کے انتقال سے مجھے ذاتی طورپر بے حد صدمہ پہنچا ہے مگر موت برحق ہے اور ہرشخص کو اُس کی گرفت میں آنا ہے، مرحوم اقبال مرزا اپنے علمی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے بھی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اقبال مرزا ایک بڑے ادیب کے ساتھ ہردالعزیز اور اعلیٰ اخلاق کے حامل انسان تھے۔ وہ اپنے دوستوں اور چھوٹوں سے نہایت ہی محبت اور شفقت سے ملتے تھے۔ اپنی دانشوری سے ماہنامہ ’صدا‘ کو انہوں نے کافی بلندی تک پہنچایا۔ ہماری دعاہے کہ پروردگار عالم اُن کے درجات میں اضافہ کرے۔ اس تعزیتی جلسے میں خورشید عالم، اقبال مسعود فاروقی، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر سہیل انور، عبدالواحد،یاسمین فاطمہ،محمدعمر اور عبدالتوفیق کے علاوہ تمام اسٹاف نے شرکت کی اور رنجم و غم کا اظہار کیا۔

Monday, June 23, 2014